خطبات محمود (جلد 35)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 120 of 461

خطبات محمود (جلد 35) — Page 120

$1954 120 خطبات محمود ہوتا ہے اور روتا جا رہا ہوتا ہے۔پاس سے گزرنے والا شخص اسے دیکھتا ہے تو وہ خیال کرتا ہے کہ یہاں کوئی اور آدمی تو موجود نہیں۔پھر یہ اپنی شکایت کس کو سنا رہا ہے۔وہ یہ نہیں سمجھتا کہ اس کے علم میں تو نہیں کہ یہاں کوئی دوسرا موجود ہے لیکن فطرت کے علم میں یہ بات ہے۔فطرت انسانی سوچتی ہے کہ اگر دریا سے لوگ مچھلیاں نکال سکتے ہیں، سمندروں سے موتی نکال سکتے ہیں تو میں اس جنگل میں اپنا ہمدرد تلاش کروں تو اس میں کیا حرج ہے۔دریا میں مچھلی کسی کو نظر نہیں آتی۔ماہی گیر جال ڈالتا ہے اور اس میں مچھلی آکر پھنس جاتی ہے۔سمندر میں موتی کسی کو نظر نہیں آتا۔پھر بھی لوگ اُس کی خاطر سمندروں میں غوطے لگاتے ہیں۔یہی حال کانوں کا ہے۔سونا جواہر ہر جگہ نہیں پائے جاتے۔ہزاروں گز جگہ کھودی جاتی ہے پھر کہیں کوئی ڈلی سونے کی ملتی ہے یا کوئی ہیرا ملتا ہے۔غرض انسان جب دیکھتا ہے کہ لوگ اپنی اغراض کی خاطر ایسے ایسے کام کرتے ہیں تو وہ کہتا ہے کہ میں بھی کیوں نہ شور مچاؤں۔ممکن ہے کوئی آدمی قریب ہی جا رہا ہو اور اسے میری آواز پہنچ جائے۔یا اردگرد کوئی قصبہ یا گاؤں ہو جس کا مجھے پتا نہ ہو ممکن ہے کہ وہاں سے بعض لوگ میری مدد کو آ جائیں۔اور اگر وہ بے دین ہے اور خدا تعالیٰ کی ہستی پر اُسے یقین نہیں تو وہ خیال کرتا ہے کہ گو میرے نزدیک تو خدا نہیں لیکن اگر خدا ہوا تو ممکن ہے کہ وہ میری مدد کو آ جائے۔یا اگر وہ دیندار ہے تو وہ سمجھے گا کہ اگر میری آواز سن کر لوگ نہیں آتے تو شاید خدا تعالیٰ میری التجا سن لے۔غرض امکانات کے مختلف پہلو ہیں۔پہلا پہلو یہ ہے کہ شاید قریب ہی کوئی اور شخص بھی ہو جو میری آواز کوسُن لے۔دوسرا پہلو یہ ہے کہ شاید قریب ہی کوئی گاؤں یا قصبہ ہو جس کا مجھے علم نہ ہو۔شاید وہاں میری آواز پہنچ جائے اور لوگ میری مدد کو آ جائیں۔تیسرا پہلو ہے کہ میں خدا کو تو نہیں مانتا لیکن اگر خدا ہوا تو وہ میری بات سنے گا۔چوتھا پہلو یہ ہے کہ خدا موجود ہے اور وہ لوگوں کی پکار کو سنتا ہے۔شاید وہ میری پکار بھی سن لے۔غرض انسان کو جب کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو وہ شور مچاتا ہے اور بغیر سمجھے اور غور وفکر کیسے شور مچاتا ہے۔ادھر اسے کھپڑ پڑا اور اُدھر اُس نے شور مچانا شروع کر دیا۔تھپڑ اور اُس کے شور کے درمیان کوئی وقفہ