خطبات محمود (جلد 35)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 104 of 461

خطبات محمود (جلد 35) — Page 104

$1954 104 خطبات محمود ہماری یہاں آباد ہونے سے غرض یہ تھی کہ لوگ بیشک ہمارے ساتھ دشمنی کریں لیکن خدا تعالیٰ کی ہمارے ساتھ ہو۔لیکن میں دیکھتا ہوں کہ تم اس کے لیے کوئی جدوجہد اور کوشش نہیں کر رہے اور اگر تم نے جلد اصلاح نہ کی تو مجھے مجبوراً تمہیں ربوہ سے یا جماعت سے باہر نکالنا پڑے گا۔جماعت میں ایک ایسی پارٹی پیدا ہو گئی ہے جو کہتی ہے کہ ایسے لوگوں کو جماعت سے نہیں نکالنا چاہیے۔اس سے دوسرے لوگوں پر بُرا اثر پڑتا ہے لیکن مجھے اس کا کوئی فکر نہیں۔اگر انہیں یہاں سے نکالنے پر دوسروں کو تکلیف ہوتی ہے تو وہ انہیں کراچی یا کسی اور شہر میں جگہ دے ریں۔یہ جگہ ہماری ہے اور وہ لوگ جو یہاں آباد ہوئے ہیں یہ وعدہ کر کے آئے ہیں کہ وہ سلسلہ سے ہر رنگ میں تعاون کریں گے۔اب جو شخص اس وعدہ کو توڑتا ہے قانون اُس کے خلاف ہے۔اور جو وعدہ خلافی کرتا ہے ہم بہر حال اُسے سزا دیں گے۔اگر کوئی طبقہ ہمارے اس اقدام کے خلاف ہوگا تو وہ خود قانون شکنی کی حمایت کرے گا۔اُن کے پاس ہم سے زیادہ سامان موجود ہیں اگر وہ انہیں اپنے سینے سے لگانا چاہتے ہیں تو بیشک لگا لیں۔اگر ہم یہاں کسی کو پچاس روپے ماہوار دیتے ہیں تو وہ اُسے دو ہزار روپے ماہوار دے دیں ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہو گا۔لیکن وہ ہمیں اس بات پر مجبور نہیں کر سکتے کہ جو شخص ہمارا نہیں بلکہ اپنے اخلاق کی وجہ سے ہمیں بدنام کرتا ہے ہم اُسے یہاں ضرور رکھیں۔جو ہمارا نہیں ہم اُسے کیوں پالیں۔ہم اس سے منہ موڑ لیں گے کیونکہ اس نے خاص اخلاق دکھانے کا وعدہ کر کے اسے توڑ دیا۔ایک وعدہ کر کے توڑنے والا کس مذہب و ملت میں امداد کا مستحق قرار دیا جاتا ہے الفضل 10 جون 1954 ء) 1 فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَّرِيضًا أَوْ عَلَى سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِنْ أَيَّامٍ أُخَرَ (البقرة: 185) 2 : متى باب 18 آیات 7،6