خطبات محمود (جلد 34)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 27 of 402

خطبات محمود (جلد 34) — Page 27

$1953 27 خطبات محمود چلاتے ہیں کہ وہ ہمیں روٹی دے۔اسی طرح اشاعت دین کی بھی ہمیں ضرورت ہے۔اگر ہمیں اشاعت دین کی توفیق ملتی ہے تو ہم خدا تعالیٰ کے ممنون ہوتے ہیں اور اگر ہمیں اشاعت دین کی توفیق نہیں ملتی تو ہم شکر نہیں کرتے بلکہ ہم خدا تعالیٰ کے سامنے گڑ گڑاتے ہیں کہ اُس نے ہم میں کیوں ضعف پیدا کر دیا ہے۔ہم دین کی خاطر کیوں اتنی قربانی نہیں کر سکتے جتنی قربانی ہم پہلے کرتے تھے۔یہی ایمان کی ایک زندہ علامت ہے۔اگر یہ علامت نہیں پائی جاتی تو سمجھ لو کہ ایمان بھی نہیں پایا جاتا۔پس جہاں تک چندے کا سوال ہے میں اس کی نوعیت بتا چکا ہوں۔بار بار بتانے کی ضرورت ہے اس لیے پیش آئی ہے کہ جن لوگوں نے پہلے نہیں سنا تھا وہ اب سُن لیں۔اور پھر بسا اوقات سستی اور غفلت ہو جاتی ہے اور دوبارہ بیان کرنے سے انسان کو موقع مل جاتا ہے کہ وہ ہستی اور غفلت کو ترک کر کے بیدار ہو جائے ، اُسے اس طرف توجہ ہو جائے۔لیکن ہمیں یہ بات بھی نہیں بھولنی چاہیے کہ بعض مراحل پر آکر انسان کو خاص اخلاص اور جوش دکھانا پڑتا ہے۔جب پہلی تحریک کے جتنے سال مقرر تھے ختم ہونے لگے تو جماعت نے غیر معمولی طور پر اُس سال وعدے کئے اور اتنے غیر معمولی طور پر کئے کہ بعد میں بھی وعدوں کی تعداد اس حد تک نہیں پہنچی۔اسی طرح اب یہ انیس سالہ دور ختم ہونے والا ہے۔یہ غیر معمولی دور ہے۔اگر چہ ہم بعد میں بھی چندہ دیں گے لیکن یہاں وہ دور ختم ہو جاتا ہے جس کی وجہ سے ہم السَّابِقُونَ الاَوَّلُونَ اور دفتر اول والے کہلاتے تھے۔یہاں ایک مرحلہ ختم ہو جاتا ہے۔اس لیے میری تجویز ہے کہ 19 سال کے خاتمہ پر ان لوگوں کی قربانیوں کا ریکارڈ رکھنے کے لیے ایک رسالہ شائع کر دیا جائے تا لوگوں کے لیے ان کی ایک مثال قائم ہو جائے۔شاید سردی کی وجہ سے جو ان دنوں کی خاص طور پر پڑ گئی ہے جماعتیں اس سال دیر سے وعدے لکھوا رہی ہیں اس لیے وعدے گزشتہ سال کی نسبت کم آئے ہیں۔گزشتہ سالوں میں ان دنوں وعدے دوبارہ آنے شروع ہو جاتے تھے۔لیکن اس کے سال جلسہ سالانہ کی وجہ سے وعدوں کی آمد میں جو روک پڑ جاتی ہے وہ برابر جاری ہے۔اس کی وجہ سے بجائے اس کے کہ پچھلے سال سے اس وقت تک زیادہ وعدے آجاتے ہیں ہزار کے وعدے کم آئے ہیں۔اس لیے میں پھر جماعت کو توجہ دلاتا ہوں کہ وقت تھوڑا ہے تم اپنی ذمہ داریوں کو سمجھو اور جلد سے جلد وعدے لکھوا ؤ اور انہیں پورا کرنے کی کوشش کرو۔میں دفتر دوم والوں کو بھی توجہ دلاتا ہوں۔اس سال دفتر دوم والوں کی کوشش ہے کہ دو اڑھائی لاکھ کے وعدے آجائیں تا پنشن پانے والوں اور