خطبات محمود (جلد 34) — Page 26
خطبات محمود 26 26 $1953 جا تا رہے اور کہا جائے کہ آئندہ تم سے یہ چندہ نہیں لیا جائے گا۔جس طرح ہم یہ پسند نہیں کرتے۔ہم یہ سوچ بھی نہیں سکتے ، ہم اس کا خیال بھی نہیں کر سکتے کہ کوئی شخص ہماری طرف یہ بات منسوب کرے۔بلکہ ہم اسے بُرا مناتے اور گالی تصور کرتے ہیں کہ کوئی ہمیں کہے کہ تم کسی وقت جا کر باوجود صحت اور طاقت کے روزہ چھوڑ دو گے۔جس طرح ہم یہ پسند نہیں کرتے۔ہم یہ سنے کی برداشت نہیں کرتے کہ کوئی کہے کہ باوجود اس کے کہ تمہارے پاس مال ہو گا لیکن کسی وقت جا کر تم زکوۃ نہیں دو گے جس طرح ہم یہ پسند نہیں کرتے۔ہم یہ سننا برداشت نہیں کرتے کہ کسی وقت جا کر ہم باوجود طاقت اور قوت اور مالی وسعت کے حج نہیں کریں گے۔جس طرح ہم یہ سنا پسند نہیں کرتے کہ کوئی کہے ایک دن ایسا آئے گا جب تم سچ کو چھوڑ دو گے۔جس طرح ہم یہ نہیں سُن سکتے کہ کوئی شخص ہماری طرف یہ منسوب کرے کہ کچھ دنوں کے بعد یا دس بیس سال کے بعد تم دیانت چھوڑ دو گے۔جس طرح ہم یہ نہیں سن سکتے کہ ہمارے متعلق کوئی کہے کہ پندرہ بیس سال تک تو تم عدل و انصاف سے کام لو گے لیکن اس کے بعد تم عدل وانصاف کو چھوڑ دو گے اور تم ظالم بن جاؤ گے۔اسی طرح ہم یہ بھی پسند نہیں کرتے ، ہم یہ بھی سنی نہیں سکتے کہ کچھ عرصہ تک تو ہم پر جہاد جس رنگ میں بھی وہ اس زمانہ میں ہم پر فرض ہے واجب رہے گا اور پھر ہمیں معاف ہو جائے گا اور ہم اسے چھوڑ بیٹھیں گے۔اگر ہمیں روٹی کھانا معاف نہیں ہوسکتا ، اگر ای ہمیں پانی پینا معاف نہیں ہوسکتا، اگر ہمیں کپڑا پہنا معاف نہیں ہو سکتا تو روحانی زندگی کے سامان کیسے معاف ہو سکتے ہیں۔پس یہ تحریک ہے تو دائی اور نہ صرف دائمی ہے بلکہ ہمارے ایمان اور اخلاص کا تقاضا ہے کہ یہ تحریک ہمیشہ جاری رہے۔جس طرح روٹی کھانا دائی ہے۔خدا تعالیٰ نے ہم پر روٹی کھانا واجب نہیں کیا لیکن جب ہمیں روٹی نہیں ملتی تو ہم چلاتے ہیں ، خدا تعالیٰ کے سامنے گڑ گڑاتے ہیں کہ وہ ہمیں روٹی دے دے۔ہم یہ نہیں کہتے کہ بیس سال تک روٹی کھائی ہے اب کہہ دیا گیا ہے کہ تم روٹی نہ کھاؤ تو چلو چھٹی ہوئی۔ہمیں روٹی نہ ملے تو ہم اس پر خوش نہیں ہوتے بلکہ ہم خدا تعالی کے سامنے گڑ گڑاتے ہیں کہ وہ ہمیں کھانا دے۔انجیل میں بھی یہ دعا سکھائی گئی ہے کہ اے خدا ! تو ہماری روز کی روٹی ہمیں بخش 1 پس اگر ہمیں روٹی ملتی ہے تو ہم خدا تعالیٰ کے ممنون ہوتے ہیں اور اگر روٹی نہیں ملتی تو ہم متفکر ہوتے ہیں۔اور خدا تعالیٰ کے سامنے گڑگڑاتے ہیں، روتے ہیں،