خطبات محمود (جلد 34)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 323 of 402

خطبات محمود (جلد 34) — Page 323

$1953 323 خطبات محمود فرمایا ہے۔كُلْ بِيَمِينِكَ وَ كُلْ مِمَّایلیک دائیں ہاتھ سے کھا اور اُس سے کھا جو تیرے سامنے ہے۔اب اگر کوئی شخص برتن میں ادھر اُدھر ہاتھ مارتا ہے تو وہ رسول کریم ﷺ کے اس ارشاد کی خلاف ورزی کرنے والا ہو گا۔اسی طرح وہ قرآن کریم کے اس حکم کی بھی خلاف ورزی کی کرنے والا ہوگا کہ لَا تَمُدَّنَّ عَيْنَيْكَ إِلى مَا مَتَعْنَابِةٍ أَزْوَاجًا مِنْهُمْ جو چیز ہم نے دوسروں کو دی ہے اُسے تم انہی کے لیے رہنے دو۔اُس کی طرف ہاتھ نہ بڑھاؤ۔غرض بعض اوقات حلال چیزیں بھی حرام بن جاتی ہیں۔اور جو حرام ہیں وہ تو ہیں ہی حرام ، اُن کا چھپا نا تو اور بھی ہے ضروری ہے۔قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت لوط علیہ السلام کی قوم پر اس لیے عذاب آیا کہ وہ اپنے عیوب پر مجلسوں میں فخر کرتی تھی۔3۔گویا عیب کا اظہار کرنا بھی گناہ ہے۔چوری کرنا اپنی ذات میں گناہ ہے۔لیکن اس بات کا اظہار کرنا کہ میں نے چوری کی ہے یہ بھی ایک گناہ ہے۔اور یہ چیز انسان کو غیر مہذب بنا دیتی ہے۔میں دیکھتا ہوں کہ ہماری جماعت کے بعض افراد بھی ابھی تہذیب اور شائستگی کے اصول کی سے واقف نہیں۔مثلاً اگر کوئی شخص سنیما دیکھتا ہے اور جماعت کا کوئی فرد ہمیں اطلاع دیتا ہے کہ ال شخص سینما دیکھتا ہے، آپ اُس کی اصلاح کریں تو یہ ایک معقول بات ہے۔لیکن بعض بے وقوف کہتے ہیں۔دیکھو! فلاں سنیما دیکھتا ہے اور انہیں تو کوئی منع نہیں کرتا اور ہمیں منع کیا جاتا ہے۔اس کے معنے یہ ہیں کہ اس کا دل چاہتا ہے کہ میں سینما دیکھوں۔لیکن وہ دوسروں کے عیوب ظاہر کر کے اپنے لیے رستہ ہموار کرنا چاہتا ہے۔ہم دوسرے کی تو تحقیقات کریں گے ہی لیکن اس شخص نے تو اپنا عیب خود ہی ظاہر کر دیا ہے۔یا مثلاً جھوٹ ہے اسلام نے جھوٹ بولنے سے منع فرمایا ہے۔اب اگر ایک شخص یہ کہے کہ ہمیں تو کہتے ہیں کہ جھوٹ نہ بولو لیکن فلاں شخص جھوٹ بولتا ہے۔فلاں افسر جھوٹ بولتا ہے۔تو ایسا کہنا دوسرے کی اصلاح کے پیش نظر نہیں ہوتا ، بلکہ وہ یہ ظاہر کرنا چاہتا ہے کہ اُس کا دل جھوٹ کے لیے تڑپ رہا ہے۔جب کہا جاتا ہے کہ تم جھوٹ نہ بولو اور وہ جھوٹ بولنا چاہتا ہے تو وہ دوسروں کے عیوب بیان کرتا ہے تا کہ اُسے وہی کام کرنے کا موقع مل جائے۔اس کی مثال اُس دھوبی کی سی ہوتی ہے جس کے متعلق یہ بیان کیا جاتا ہے کہ وہ اپنے بیوی بچوں سے ہمیشہ لڑتا رہتا تھا اور اکثر روٹھ کر باہر چلا جاتا تھا۔اور کہا کرتا تھا اب میں گھر نہیں آؤں فلاں