خطبات محمود (جلد 34) — Page 16
$1953 16 خطبات محمود زیادہ محنت کرو گے، چار گنا سے بھی زیادہ قربانی کرو گے۔پس تم بار بار محلہ کی انجمن کے سامنے یہ بات لاؤ کہ اس قدر وقت گزر گیا ہے اور اس عرصہ میں ہم نے اس قدر کام کیا ہے۔یہ نہیں کہ ایک دفعہ انجمن کا اجلاس بلایا ، ریزولیوشن پاس کیا اور پھر چپ ہو گئے۔باہر کی انجمنوں کو بھی بار بار اجلاس کر کے جماعت کی کے سامنے یہ چیز پیش کرتے رہنا چاہیے کہ اس سال اُن کا یہ پروگرام تھا اور اس عرصہ میں انہوں نے اس قدر کام کیا ہے۔جماعت میں بار بار یہ بات پیش کی جائے اور اُن سے پوچھا جائے کہ انہوں نے کی اس وقت تک کیا کام کیا ہے؟ اگر تم اس طرح کرو گے تو دیکھو گے کہ جماعت میں آپ ہی آپ بیداری پیدا ہو جائے گی۔جماعت کے سامنے بار بار کارگزاری لانے سے وہ اپنے مقصد کی طرف متوجہ ہو جائے گی۔جب کسی انسان کو صدمہ ہوتا ہے تو تم نے دیکھا ہوگا کہ اُس صدمہ کی بات بار بار سننے سے اُسے کتناغم محسوس ہوتا ہے اور وہ کہتا ہے بھئی تم بار بار اس صدمہ کو میرے سامنے نہ لاؤ۔اس سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ ایک بات جو گزر چکی ہوا سے بار بار کہنے سے اگر وہ غم کی ہے تو زخم اور گہرا ہو جاتا ہے۔اور اگر وہ خوشی کی ہے تو وہ خوشی کو دوبالا کر دیتی ہے۔لیکن افسوس کہ ہم اپنے کاموں میں اس بات کو بھول جاتے ہیں۔ایک دفعہ مجلس کر لیتے ہیں اور پھر بھول جاتے ہیں۔پس محلوں کی مجلس میں اگر وہ ہفتہ میں ایک دفعہ بیٹھتی ہے تو ایک دفعہ، اور اگر زیادہ دفعہ کی بیٹھتی ہے تو زیادہ دفعہ، اس سوال کو پیش کریں کہ ہم نے کیا کام کرنا تھا۔سال میں اتنا وقت گزر گیا ہے اور ہم نے اس قدر کام کیا ہے۔اسی طرح میں باہر کی جماعتوں کو بھی توجہ دلاتا ہوں کہ تم یہ نہ سوچو کہ ابھی ہم جلسہ سے واپس آئے ہیں۔جیسا کہ میں نے بتایا ہے ابھی جلسہ ہی ختم نہیں ہوا بلکہ سال میں سے 12 دن گزر چکے ہیں۔دراصل ہمارا سال 29 دسمبر سے شروع ہو جاتا ہے۔28 دسمبر کو جلسہ ختم ہوتا ہے اور 29 دسمبر سے نیا سال شروع ہو جاتا ہے۔اور ہم کو اُسی وقت سے ان تجاویز پر عمل کرنا شروع کر دینا چاہیے جو ہم جلسہ سالانہ پر تیار کرتے ہیں۔اس طرح ہمارے اس سال کے پروگرام میں سے دو فیصدی ضائع ہو گیا ہے۔اب دیکھو کہ اس دو فیصدی نقصان کو تم کتنی مشکل سے پورا کرتے ہو۔میں نے بتایا ہے کہ ملک میں پانچ فیصدی کم غلہ پیدا ہونے کی وجہ سے گندم کی قیمت