خطبات محمود (جلد 34)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 17 of 402

خطبات محمود (جلد 34) — Page 17

$1953 17 خطبات محمود 6 روپے سے بڑھ کر 26 روپے فی من تک پہنچ گئی ہے۔اسی طرح تمہیں بھی اس سال دگنی قیمت کی ادا کرنی پڑے گی۔یعنی پہلے جو کام ایک روپیہ میں ہو جانا تھا وہ اب دور و پیہ میں ہو گا۔اور اگر اتنے ہی دن اور گزر گئے تو جو کام ایک روپیہ میں ہونا تھا وہ چار روپے میں ہوگا۔اور جو کام ایک سو روپیہ میں ہے ہونا تھا وہ چار سو روپیہ میں ہوگا۔پہلے اگر ایک رکعت تمہیں خدا تعالیٰ کے قریب لا سکتی تھی تو اب کے تمہیں خدا تعالیٰ کے قریب آنے کے لیے چار رکعتیں پڑھنی پڑیں گی۔اور اگر جنوری کا سارا مہینہ ای گزر گیا اور ہم اپنے مقصد اور پروگرام پر عمل کرنے کے قابل نہ ہو سکے تو ہمارا ساڑھے بارہ فیصدی نقصان ہو چکا ہوگا۔یعنی جو کام ایک روپیہ میں ہو سکتا تھا اُس کے لیے ہمیں ساڑھے بارہ روپے خرچ کرنے پڑیں گے۔اور جو قرب ہمیں ایک رکعت پڑھ کر حاصل ہوسکتا تھا۔اُس کے لیے تھے ساڑھے بارہ رکعت نماز پڑھنی ہوگی۔ایک دفعہ استغفار کرنے کی بجائے ہمیں بارہ دفعہ استغفار کرنا پڑے گا۔اور ایک دفعہ سُبحَانَ اللہ کہنے کی بجائے ہمیں بارہ دفعہ سُبْحَانَ اللہ کہنا پڑے گا۔تب جا کر ہمارا گزارہ ہوگا۔اگر اس چیز کو حسابی طور پر دیکھا جائے تو تمہیں اندازہ ہو کہ ہمارا اس قدر نقصان ہوگا۔پس میں تمہیں وقت پر اس خطرہ سے آگاہ کرتا ہوں کہ اگر یہ سال بغیر کچھ کئے گزر گیا تو سال کے آخر میں تمہارا دل مردہ ہو جائے گا اور تم کہو گے کہ ہمیں تو کچھ بھی نقصان نہیں ہوا۔لیکن تمہاری وہ رائے کچھ حقیقت نہیں رکھے گی۔کیونکہ اُس وقت تک تم مُردہ ہو چکے ہو گے اور مُردہ دل کو اپنے نقصان کا کوئی احساس نہیں ہوتا۔جس طرح جسم کا جو حصہ سُن ہو جاتا ہے، ڈاکٹر اُسے کاٹ دیتا ہے اور اُس شخص کو ذرہ بھر بھی تکلیف محسوس نہیں ہوتی اسی طرح اُس دل کو کیا تکلیف ہوگی جو ای مر چکا ہے۔پس میں اُس وقت کے حالات پیش کر کے تمہیں آگاہ نہیں کرتا کیونکہ اُس وقت تو تمہارا دل مر چکا ہوگا اور اُسے اِس بات کا احساس ہی نہیں ہوگا کہ تمہارا کتنا نقصان ہو چکا ہے۔میں تمہیں موجودہ حالات کے لحاظ سے آگاہ کرتا ہوں کہ تم اندازہ لگا لو کہ سال کے گزر جانے کے بعد تم کتنا