خطبات محمود (جلد 34)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 15 of 402

خطبات محمود (جلد 34) — Page 15

$1953 15 خطبات محمود کہ ہم نے کیا کیا اور کیا نہیں کیا۔پھر دیکھیں لوگوں کے اندر ایک جنون پیدا ہوتا ہے یا نہیں۔اگر ایک مہینہ میں ایک دفعہ میٹنگ کر لی اور پھر بھول گئے تو اگلے سال تو لوگوں کے دل سخت ہو جائیں گے۔پس ایک چیز تو یہ ہے کہ ہر فرد پروگرام کو بار بار اپنے ذہن میں لائے اور کوئی دن ایسا نہ جائے جس دن اُس کی نے اس بات پر غور نہ کیا ہو کہ ہمارا کیا پروگرام تھا۔اور اب تک ہم نے اس پر کس حد تک عمل کیا ہے۔یہی محاسبہ ہے جسے صوفیاء نے روحانیت کے لیے بڑی ضروری چیز قرار دیا ہے۔پس تم بار بار سوچو کہ ہماری یہ ذمہ داری تھی۔ہم نے اس سال اپنی پیدائش کی فلاں غرض کو پنے سامنے رکھا تھا۔اس کے مطابق ہم نے کس حد تک عمل کیا۔ہم نے کس حد تک اپنی اس ذمہ داری کو پورا کیا۔سال کے 360 دن ہوتے ہیں۔اگر ایک دن ضائع ہو گیا تو آپ کے پروگرام کا 360 واں حصہ ضائع ہو گیا۔اگر دو دن ضائع ہو گئے تو 180 واں حصہ پروگرام کا ضائع ہو گیا۔اگر تین دن ضائع ہو گئے تو 120 واں حصہ پروگرام کا ضائع ہو گیا۔اگر چار دن ضائع ہو گئے تو 90 واں حصہ پروگرام کا ضائع ہو گیا۔اگر سات دن گزر گئے تو پچاسواں حصہ پروگرام کا ضائع ہو گیا۔اب دیکھو کتنی کتنی جلدی وقت ضائع ہوتا ہے۔سات دن کی غفلت سے سال کا دو فیصدی پروگرام ضائع ہو جاتا ہے۔اب اگر تمہاری دو فیصدی تنخواہ کم ہو جائے تو تمہیں کتنی تکلیف ہوتی ہے۔دو فیصدی غلہ کم ہو تو کتنی تکلیف ملک کو برداشت کرنی پڑتی ہے۔پچھلے سال حکومت کے خیال کے مطابق پانچ فی صدی غلہ کم پیدا ہوا جس کی وجہ سے ملک میں قحط پڑا ہوا ہے۔میرے نزدیک اگر چہ یہ بات غلط ہے۔لیکن چونکہ ہر قسم کا حساب گورنمنٹ کے پاس ہے اس لیے اسے سرسری بھی نہیں کہا جاسکتا۔غلہ کی قیمت 6 روپے سے بعض جگہ 32 روپیہ فی من تک پہنچ گئی ہے۔گویا چھ گنا قیمت بڑھ گئی ہے۔اسی طرح اگر تم سال کا ایک ہفتہ ضائع کی کرو گے تو تم پر اُس سے آدھی آفت آجائے گی جو پانچ فیصدی غلہ کم ہونے کی وجہ سے گورنمنٹ پر آئی۔اور اگر دو ہفتے ضائع ہو گئے تو وہی پانچ فیصدی ہو گیا اور آپ لوگوں کو وہی تکلیف اٹھانی پڑے گی جو اس سال پانچ فیصدی غلہ کم ہونے کی وجہ سے تم اٹھا رہے ہو۔گو یا اگر تم نے دو ہفتے کام نہیں کیا تو تمہارے کام کا اتناغلہ ضائع ہو گیا جتنا امسال ملک کا کم ہوا اور اسے تکلیف کا سامنا کرنا پڑا اور 6 روپے فی من کی بجائے تمہیں 26 ، 26 روپے فی من یا اس سے بھی زیادہ قیمت ادا کرنی پڑی۔اس کا مطلب یہ ہے کہ تم اپنے مقصد اور پروگرام کو جو تم نے اپنے اس سال کے لیے تجویز کیا ہے پورا کرنے کے لیے چار گنا سے بھی