خطبات محمود (جلد 34) — Page 14
$1953 14 خطبات محمود اُن میں سے کئی ایسے آسودہ حال لوگ بھی تھے جو گھروں میں دریوں اور قالینوں پر سونا بھی نا پسند کرتے ہیں لیکن جلسہ کے دنوں میں وہ زمینوں پر سوئے۔وہ ایسے مکانوں میں سوئے جن کی چھتیں سروں۔لگتی تھیں، جن کی چھتیں گھاس پھوس کی تھیں۔پھر اس دفعہ خصوصیت سے بعض بارکوں کو آگ لگ گئی اور ی مستورات کو ساری رات بارکوں (BARRACK) سے باہر گزارنی پڑی۔بعض عورتوں نے کہا کہ رات ہی گزارنی ہے چلو باہر بیٹھ کر گزارلو۔چنانچہ انہوں نے بارکوں کے سامنے بیٹھ کر رات گزاری۔ان ایام میں جو قربانی کے تھے تم میں ایک جوش پیدا ہوا اور تم نے ایک نیا عزم کر لیا، نیا ارادہ کر لیا۔اب سوال یہ ہے کہ وہ جوش تو لوگوں کی قربانیوں کو دیکھ کر پیدا ہوا تھا ہمارا کام یہ تھا کہ ہم اس جوش کو قائم رکھتے۔لیکن ہم اس جوش کو اُس وقت تک قائم نہیں رکھ سکتے جب تک کہ ہم ایک ایک دن گزارنے پر یہ محسوس نہ کریں کہ ہمارا عزم اور ہمارا ارادہ ختم ہو رہا ہے۔تم ان پروگراموں کے متعلق سوچو۔کسی پروگرام پر عمل کرنے سے پہلے یہ ہوتا ہے کہ فردسوچتا ہے۔میں نے بتایا تھا کہ کوئی قوم اس وقت تک جیتی نہیں جب تک کہ اُس کے افراد میں سوچنے کی عادت پیدا نہ ہو جائے۔پس تم پہلے سوچنے کی کی عادت پیدا کرو۔تم رات دن سوچو کہ تم کس طرح ترقی کر سکتے ہو۔تم کس طرح خدمت اسلامی کر سکتے ہو۔تم کس طرح خدا تعالیٰ کے فضلوں ، اس کی برکتوں اور اس کی محبت اور پیار کو حاصل کر سکتے ہی ہو۔پھر گروپس (Groups) ہوتے ہیں۔یعنی محلوں کی انجمنوں کو سوچنا چاہیے۔اگر وہ ہفتہ میں ایک دن اجلاس کرتے ہیں تو ایک دفعہ اس امر کو سامنے رکھ کر غور کریں۔اور اگر وہ دو دفعہ اجلاس کرتے ہیں تو ہے دو دفعہ اس امر پر غور کریں اور جماعت کے سامنے یہ بات پیش کریں کہ ہمارا یہ پروگرام تھا اور ہم نے اس حد تک اس ہفتہ میں اس پر عمل کیا ہے۔لیکن ہوتا یہ ہے کہ مہینہ دو مہینہ میں ایک دفعہ میٹنگ کی ، چند باتیں کیں اور میٹنگ برخواست کر دی۔اب بعض محلوں کی طرف سے یہ اطلاع آئی ہے کہ ہم نے سوچا ہے اور باہم مشورہ کر کے ایک پروگرام بنایا ہے۔لیکن اس میٹنگ میں تو صرف ایک دفعہ غور کیا گیا ہے تھا۔لیکن کیا ایک دفعہ کھانا کھانا کافی ہوا کرتا ہے؟ جس طرح صرف ایک دفعہ کھانا کھانا کافی نہیں ہوتا ہے اسی طرح ایک دفعہ سوچنا کافی نہیں۔ہمیں جماعت کے افراد کے کانوں میں یہ باتیں بار بار ڈالنی چاہیں ہمیں جماعت کے سامنے بار بار یہ بات رکھنی چاہیے کہ ہمارا کیا پروگرام تھا اور اس پر کس قدر ہم نے عمل کیا ہے۔ہر محلہ کی انجمن کو ہفتہ میں ایک دفعہ یا دو دفعہ اپنا پروگرام جماعت کے سامنے پیش کرنا چاہیے۔