خطبات محمود (جلد 34)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 194 of 402

خطبات محمود (جلد 34) — Page 194

$1953 194 خطبات محمود ہماری جماعت کے لیے کہیں باہر جانے کا بھی موقع ہوگا۔اور کوئی ایسے حالات نہ تھے جن سے سمجھا جاسکتا کہ کسی وقت ہم سندھ کی طرف جائیں گے اور وہاں پناہ لیں گے۔یہ خواب آئی اور وہ سال گزر گیا پھر دوسرا سال آیا اور گزر گیا۔تیسرا سال آیا اور گزر گیا۔چوتھا سال آیا اور گزر گیا۔پانچواں سال آیا اور گزر گیا۔چھٹا سال آیا اور گزر گیا۔ساتواں سال آیا اور گزر گیا۔آٹھواں سال آیا اور گزر گیا۔نواں سال آیا اور گزر گیا۔دسواں سال آیا اور گزر گیا۔گیارہواں سال آیا اور گزر گیا۔بارہواں سال آیا اور گزر گیا۔تیرھواں سال آیا اور گزر گیا۔تیرہ سال کے بعد ایک اخبار میں میں نے پڑھا کہ گورنمنٹ نے سندھ میں نہروں کی ایک بڑی بھاری سکیم منظور کی ہے اور وہاں بہت سی قابل کاشت زمین نکلی ہے۔اُس وقت گورنمنٹ کو یہ خیال کی بھی نہیں تھا کہ کوئی شخص اس زمین کو خریدے گا۔زیادہ تر یہی خیال تھا کہ زمین تقسیم کی جائے گی اور بہت سستی اور آسان شرائط پر لوگوں کو دے دی جائے گی۔جس وقت یہ اعلان ہوا مجھے اپنا رویا یاد آگیا اور میں نے دوستوں سے کہا کہ یہ ایک اچھا موقع ہے۔خواب میں مجھے سندھ کا علاقہ ہی دکھایا گیا تھا جہاں میرے پاؤں لگے۔اور پنجاب کے دریاؤں کا بھی سندھ سے ہی تعلق ہے۔پنجاب کے دو بڑے بھاری دریا ستلج اور بیاس فیروز پور کے پاس آکر ملتے ہیں۔اور پھر پانچوں کی دریا، دریائے سندھ میں شامل ہو جاتے ہیں۔غرض یہ اعلان پڑھ کر میں نے سوچا کہ اس علاقہ میں جو نہریں بنے والی ہیں یہ ضرور خدائی حکمت کے ماتحت ہیں اور خدا تعالیٰ کا منشاء یہ معلوم ہوتا ہے کہ ہم ان زمینوں کو آباد کرنے کی کوشش کریں۔چنانچہ میں نے دوستوں میں تحریک کی اور اخباروں میں بھی اعلان کروا دیا کہ اگر کوئی ای احمدی وہاں زمین خریدنا چاہے تو یہ بڑا عمدہ موقع ہے۔مگر کسی نے اس طرف توجہ نہ کی۔اس پر مجھے خیال پیدا ہوا کہ ہم ایک کمیٹی بنا کر یہ زمین خرید لیں اور آگے چل کر دوسروں کے پاس فروخت کر دیں۔چنانچہ ہم نے ایک کمیٹی بنالی اور فی کس ایک ایک سوروپیہ کا حصہ رکھا۔دس حصے میں نے خریدے۔آٹھ حصے انجمن نے خریدے اور ایک ایک حصہ یا اس سے زیادہ بعض اور دوستوں نے خرید لئے۔گل 30 حصے تھے۔اور ہمارا ارادہ تھا کہ جب تین ہزار روپیہ جمع ہو جائے گا تو ہم اپنا آدمی بھجوا کر شرائط کا پتالیں گے اور اس کے بعد اگر ہم نے مناسب سمجھا تو ممکن ہے ہم یہ زمین