خطبات محمود (جلد 34)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 166 of 402

خطبات محمود (جلد 34) — Page 166

$1953 166 خطبات محمود جب تک کہ فتنہ پیدا کرنے والوں کو اُن کا اصل مقصد حاصل نہ ہو جائے۔اب بظاہر تو یہ فتنہ اٹھا اور دب گیا اور لوگوں نے محسوس کیا کہ اس کا نتیجہ اچھا نہیں رہا کیونکہ حکومت کے حصول میں وہ پھر بھی ناکام رہے اور انہیں وہ مقاصد حاصل نہ ہوئے جو وہ چاہتے تھے۔لیکن اس فتنہ سے اتنا ضرور پتا لگ گیا ہے کہ ہمارے ملک کا مسلمان اتنا سادہ ہے کہ اُسے جوش دلا دیا جائے تو وہ مذہب کے نام پر ہر کام کرنے کے لیے تیار ہو جاتا ہے۔امریکہ کا ایک بڑا پروفیسر ایک دفعہ ربوہ میں مجھ سے ملنے کے لیے آیا۔اس نے بتایا کہ مجھے سارے ایشا کے حالات کا مطالعہ کرنے اور یہ دیکھنے کے لیے بھجوایا گیا ہے کہ یہاں کمیونزم کے پھیلنے کے کس حد تک امکانات ہیں۔چنانچہ اُس نے کہا کہ میں جاپان میں بھی گیا ہوں، چائنا میں بھی گیا ہوں ، انڈونیشا میں بھی گیا ہوں ، برما میں بھی گیا ہوں ، ہندوستان میں بھی گیا ہوں اور پاکستان میں بھی پھرا ہوں۔مجھ پر یہ اثر ہے کہ کسی اور جگہ کمیونزم پھیل جائے تو پھیل جائے پاکستان میں یہ کبھی نہیں پھیل سکتا۔میں نے کہا کیوں؟ کہنے لگا اس لیے کہ اسلام کی تعلیم کو میں نے کی دیکھا ہے وہ کمیونزم کے خلاف ہے۔جب اسلام کی تعلیم ہی کمیونزم کے خلاف ہے تو کم از کم پاکستان میں تو کمیونزم نہیں پھیل سکتا۔میں نے کہا آپ کو دھوکا لگا ہے۔کہنے لگا کس طرح۔میں نے کہا اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اسلام کی تعلیم کمیونزم کے خلاف ہے؟ لیکن کبھی آپ نے یہ بھی سوچا کہ مسلمانوں میں سے کتنے ہیں جو اسلام کی تعلیم سے واقف ہیں؟ آپ گاؤں میں چلے جائیں اور ی لوگوں سے باتیں کریں آپ کو معلوم ہوگا کہ دس ہزار میں سے ایک بھی اسلامی تعلیم سے واقف نہیں۔کہنے لگا مولوی تو واقف ہیں۔میں نے کہا ٹھیک ہے لیکن کبھی آپ نے اس امر پر بھی غور کیا کہ ہمارے ملک کے مولوی کا گزارہ کیا ہے؟ سو میں سے ننانوے مولوی ایسا ہے جس کی ماہواری آمدن تو دس روپیہ سے زیادہ نہیں۔گویا اُس کی حیثیت ایک کمی سے بھی زیادہ حقیر ہے۔اور جس کا گزارہ اتنا معمولی ہے اور جسے لوگ اپنے گھر کی بچی کچھی روٹی اور سری گلی ترکاری دینے کے عادی ای ہیں۔اُسے خرید نا کونسا مشکل کام ہے۔ہمارے ملک میں لطیفہ مشہور ہے۔کہ کوئی لڑکا ملاں کے پاس آیا اور کہنے لگا اماں نے۔آپ کے لیے کھیر بھجوائی ہے اُس نے کہا تمہاری اماں کو آج کیا خیال آیا کہ اُس نے کھیر