خطبات محمود (جلد 34)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 126 of 402

خطبات محمود (جلد 34) — Page 126

$1953 126 18 خطبات محمود اپنے اعمال سے دنیا پر واضح کر دو کہ تم دوسروں سے زیادہ اسلام کی تعلیم پر عمل کرنے اور اعلیٰ اخلاق ظاہر کرنے والے ہو (فرموده 5 جون 1953ء بمقام ربوہ) تشہد ،تعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا۔" ” سب سے بڑی مصیبت جو انسان پر آتی ہے اور اُسے ہلاکت اور بربادی کے گڑھے میں گرا دیتی ہے وہ یہی ہے کہ وہ دوسرے لوگوں کو اندھا اور بہرہ سمجھ لیتا ہے۔حضرت مسیح ناصری علیہ السلام نے فرمایا ہے انسان کو اپنی آنکھ کا شہتیر نظر نہیں آتا لیکن اُسے دوسروں کی آنکھ کا تنکا بھی نظر آ جاتا ہے 1۔پس بڑی خرابی یہی ہوتی ہے کہ انسان دوسرے کے عیب کو بڑا بنا کر دیکھتا ہے۔اور اس وجہ سے اپنے عیب کے متعلق سمجھتا ہے کہ وہ کسی کو نظر نہیں آسکتا۔دنیا میں جب کوئی شخص دوسرے کے عیب کو بڑھا کر دکھاتا ہے تو علاوہ اس کے کہ وہ جھوٹ بولتا ہے عیب چینی کے نتیجہ میں وہ اپنے عیب کو بھول جاتا ہے۔جب اسے کہا جاتا ہے کہ تم نے جھوٹ بولا ہے تو وہ کہہ دیتا ہے کہ ساری دنیا ہی جھوٹ بولتی ہے اور سمجھتا ہے کہ ایسا کر کے اس نے اپنا عیب کمزور کر لیا ہے۔یا جب کوئی احمدی سینیما دیکھتا ہے اور اُس سے کہا جاتا ہے کہ تم کیوں سنیما دیکھتے ہو؟ تو وہ کہہ دیتا ہے