خطبات محمود (جلد 34) — Page 125
$1953 125 خطبات محمود نہیں۔تم سب کو بولنا چاہیے۔تمہارے ہمسایہ میں آگ لگ جاتی ہے تو تم شور مچاتے ہو کہ آگ لگ گئی ہے آگ لگ گئی۔تم آسمان سر پر اٹھا لیتے ہو۔اس لیے کہ تمہیں خطرہ ہوتا ہے کہ آگ بڑھ کر تمہارے مکان کو بھی خطرہ میں ڈال دے گی۔یہ بھی ایک آگ ہے جو تمہیں جلا ڈالے گی۔اور اگر فرض کرو کہ تم میں ابھی بے ایمانی پیدا نہیں ہوئی تو کل کو پیدا ہو جائے گی۔کیونکہ جب اپنے ارد گرد بے ایمانی دیکھ کر لوگ اُسے برداشت کر لیتے ہیں تو دوسرے لوگ بھی بے ایمان ہو جاتے ہیں۔المصلح 17 جون 1953 ء) :1 حریرہ میٹھی اور گاڑھی چیز جو میدے کو کھانڈ میں گھول کر پکائی جاتی ہے۔(فیروزاللغات اردو جامع فیروز سنز لا ہور) 3،2 : وَمَنْ كَانَ مَرِيضًا أَوْ عَلَى سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِنْ أَيَّامٍ أُخَرَ (البقره: 186) 4: صحيح البخاری کتاب الصوم باب مَنْ لَمْ يَدَعْ قَول الزور والعمل به فى الصّوم و هَلْ يَقُوْلُ إِنِّي صَائِمٌ إِذَا شِئْتُمْ : يَا يُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُونُوا قَومِينَ بِالْقِسْطِ شُهَدَاءَ لِلَّهِ وَلَوْ عَلَى أَنْفُسِكُمْ اَوِ الْوَالِدَيْنِ وَالْأَقْرَبِينَ (النساء : 136) مسلم كتاب الايمان باب بيان كون النهى عن الْمُنْكَرِ مِنَ الْإِيمَانِ (الخ) : كَالشَّاةِ تَبْحَثُ عن سكين جزار (المستتقصى فى امثال العرب الزمخشري باب الكاف مع الالف۔جزء2 صفحہ 206 بیروت 1987ء)