خطبات محمود (جلد 34)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 84 of 402

خطبات محمود (جلد 34) — Page 84

$1953 84 خطبات محمود اس کے دن بھی پھیرے اور اس کو عزت کی روٹی دے۔ایک اور عورت روٹی دیتی ہے تو کہتی ہے ی شخص ہمارا ہی بھائی ہے، اس کی شامت اعمال ہے کہ دوسروں سے کھانا مانگتا پھرتا ہے، اس کو کسی گناہ کی وجہ سے ایسا کرنا پڑتا ہے۔ہم بھی اسی کی طرح انسان ہیں اگر ہمیں بھی دوسروں کے گھروں پر جانا پڑتا تو ہمارا کیا حال ہوتا۔اللہ تعالیٰ نے ہمیں مانگنے سے بچایا ہے، اس نے ہم پر فضل کیا ہے۔اب ہمارا فرض ہے کہ ہم اسے بھی کھانے کے لیے دیں۔پھر ایک عورت اپنے بچہ کو روٹی دیتی ہے اور کہتی جاتی ہے " اماں صدقے جائے ، اماں قربان جائے " اور کھاؤ ، ابھی تو تم نے کی کچھ بھی نہیں کھایا۔پھر ایک عورت " ماں واری ماں صدقے " تو نہیں کہتی کیونکہ کھانے والا اُس کا خاوند ہوتا ہے وہ اسے کھانا دیتی ہے اور کہتی ہے یہ انہی کا کمایا ہوا ہے ، ہمارے گھر میں تو رونق اور برکت ہی انہی سے ہے، انہی کے ذریعہ خدا تعالیٰ نے ہمیں کھانے کو دیا ہے۔اب روٹی تو ایک جیسی ہی ہوتی ہے لیکن اس کے ملنے میں زمین و آسمان کا فرق ہو جاتا ہے۔یہی دوسری نعماء کا حال ہے۔دنیا کی جتنی نعمتیں ہوتی ہیں یا جتنے کام ہوتے ہیں وہ مختلف ذریعوں سے ہوتے ہیں۔بعض بڑے کام ایسے ہوتے ہیں کہ ان میں کوئی دوسری قوم مدد کرے تب وہ مکمل ہوتے ہیں۔مثلاً پولینڈ پر حملہ ہوا تو پولینڈ کی طرف سے فرانسیسی اور انگریز بھی لڑے۔اب لڑے تو پولینڈ والے بھی لیکن جوشان ایک فرانسیسی اور ایک انگریز کو حاصل تھی وہ پولینڈ والوں کی کو حاصل نہیں تھی۔فرانسیسی اور انگریز سمجھتے تھے کہ ہم محسن ہیں اور ان لوگوں کی جانیں بچانے والے ہیں۔یہ لوگ دشمن کا مقابلہ نہیں کر سکتے تھے۔ہم ان پر رحم کر کے جنگ میں شامل ہو گئے اور ان کے ساتھ مل کر ان کے دشمن کا مقابلہ کیا۔اب بات تو ایک ہی تھی لیکن حیثیت الگ الگ تھی۔اسی طرح دنیا میں بسا اوقات ایسا ہوتا ہے کہ ایک شخص کی گورنمنٹ پنشن لگا دیتی ہے ہمارے ہاں تو یہ رواج نہیں لیکن یورپ میں ایسا ہوتا ہے کہ جب کوئی شخص 60 سال کا ہو جاتا ہے اور اُس کی کوئی کمائی نہیں ہوتی۔تو گورنمنٹ اس کو کچھ رقم بطور پنشن دے دیتی ہے وہ اسی سے روٹی کھاتا ہے۔اور ایک کی دوسرا شخص جس نے اپنی کمائی سے روپیہ جمع کیا ہوا ہے وہ بھی روٹی کھاتا ہے لیکن کہتا ہے میری محنت نے کی مجھے روٹی دی ہے۔اور دوسرا شخص کہتا ہے مجھ پر حکومت نے رحم کر کے پینشن مقرر کر دی ہے۔کئی مالدار لوگ قانو نا پنشن کے حقدار ہوتے ہیں لیکن وہ ایسی رقم کے لینے میں اپنی ہتک تصور کرتے ہیں۔