خطبات محمود (جلد 34) — Page 83
$1953 83 خطبات محمود لیکن ان کے کام ہو جاتے ہیں۔یہودی بھی بسم اللہ نہیں پڑھتے لیکن ان کے کام ہو جاتے ہیں۔پس بسم اللہ کے نہ پڑھنے سے کام کے بے برکت ہونے کے یہ معنے نہیں کہ کام نہیں ہوتا بلکہ اس کے یہ معنے ہیں کہ دنیا میں جتنے بھی کام ہیں وہ مختلف جہات کے ساتھ تعلق رکھتے ہیں۔بظاہر وہ ایک شکل کے ہوتے ہیں لیکن جہت کے ساتھ اُن کی نوعیت بدل جاتی ہے۔میں اس کی ایک موٹی مثال دیتا ہے ہوں۔مثلاً روٹی ہے۔ہمیں بھوک لگتی ہے تو روٹی کھاتے ہیں لیکن ایک فقیر کسی کے گھر پر جا کر روٹی مانگتا ہے تو کئی کنجوس عورتیں کہہ دیتی ہیں کہ دفع ہو۔آپ تو کھانے کو ملتا نہیں تمہیں کہاں سے دیں۔کئی نرم دل عورتیں ہوتی ہیں وہ یہ تو نہیں کہتیں دفع ہو لیکن وہ اُس فقیر کے آگے اس طرح روٹی کی کو پھینک دیتی ہیں جیسے کتے کے آگے ٹکڑا ڈالا جاتا ہے۔اب وہ روٹی بھی انسان کا پیٹ اُسی طرح بھرتی ہے جیسے اپنی کمائی سے پکائی ہوئی روٹی۔مگر دونوں روٹیوں میں کتنا بڑا فرق ہے۔ایک تو انسان کے آگے گتے کی طرح پھینک دی جاتی ہے اور ایک عزت واحترام سے ملتی ہے۔پھر ایک اور رحم دل عورت ہوتی ہے جو روٹی پھینکتی نہیں بلکہ فقیر کو ایک چپاتی دے دیتی ہے اور ساتھ ہی کہتی ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہارا بھلا کرے۔پھر ایک اور رحم دل عورت ہوتی ہے وہ فقیر کو روٹی بھی دیتی ہے اور اس پر سالن بھی ڈال دیتی ہے۔پھر ایک اس سے بھی زیادہ معزز اور شریف عورت ہوتی ہے۔وہ فقیر سے کہتی ہے کہ آؤاندر بیٹھ جاؤ اور پھر اس کے آگے کھانا رکھوا دیتی ہے اور کہتی ہے آرام سے بیٹھ کر کھالو۔اب یہ سب روٹیاں مانگنے سے ملی ہیں۔لیکن ان سب میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔ایک مانگنے والے کو گالیاں ملتی ہیں۔ایک کو کتے کی طرح روٹی پھینک دی جاتی ہے۔ایک کو روٹی ملتی ہے اور ایک کو روٹی کے ساتھ سالن بھی مل جاتا ہے۔ایک اور نے مانگا تو گھر کی مالکہ نے اسے اندر بٹھا لیا اور عزت کے ساتھ کھانا کھلایا۔پھر وہی روٹی عورتیں اپنے خاوندوں کے آگے رکھتی ہے ہیں ، اپنے بیٹوں کے آگے رکھتی ہیں تو کتنی محبت کے ساتھ رکھتی ہیں۔اب روٹی ایک ہے لیکن اس کے ملنے کا طریق مختلف ہے۔ایک عورت روٹی تو دیتی نہیں لیکن مانگنے والے کو گالیاں دیتی ہے اور کہتی ہے کہ اس نے کتنا تنگ کر رکھا ہے۔ایک روٹی دیتی ہے اور کہتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہم پر فضلی کیا اور ہمیں کھانا دیا۔اگر وہ ہمیں نہ دیتا تو ہم کہاں سے کھاتے ایک عورت روٹی دیتی ہے اور ساتھ ساتھ یہ کہتی جاتی ہے یہ شخص کتنا غریب ہے کہ دوسرے لوگوں سے مانگتا پھرتا ہے، اللہ تعالیٰ