خطبات محمود (جلد 34)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 61 of 402

خطبات محمود (جلد 34) — Page 61

$1953 61 خطبات محمود پس اگر خواجہ ناظم الدین صاحب خود کچھ کرتے ہیں تو اس کا نام ڈکٹیٹر شپ ہے۔لیکن تعجب ہے ایک طرف تو یہ کہا جاتا ہے کہ اسلام جمہوریت سکھاتا ہے اور دوسری طرف یہ کہا جاتا۔کہ جمہوریت کی پروانہ کی جائے۔صرف ایک آدمی جو چاہے فیصلہ کر دے۔اگر خواجہ صاحب نہیں کریں گے تو گردن زدنی قرار پائیں گے اور اگر کریں گے تو ڈکٹیٹری کا دعوی کریں گے۔ایک دوست نے مجھے بتایا کہ ہم ایک جگہ بیٹھے تھے کہ ایک ہندوستانی مہاجر وہاں آئے اور کہنے لگے کہ ہمارے ہاں جو جانور مارکھنڈ ہو جاتا ہے اُسے کہتے ہیں دو چھری یعنی اُس کو مار دو۔اگر خواجہ صاحب قانون کی پابندی کرتے ہیں تو ان لوگوں کے نزدیک گردن زدنی بن جاتے ہیں۔اور اگر ان کی بات مان لیتے ہیں تو قانون شکن بن جاتے ہیں۔اب دیکھو خواجہ صاحب کے سامنے یہ بات پیش کر کے انہیں کتنی خطر ناک حالت میں ڈال دیا گیا ہے۔ان کے لیے دونوں طرف مصیبت ہے۔اگر وہ ان کی بات نہیں مانتے تو ان کے نزدیک گردن زدنی قرار پاتے ہیں اور اگر مان لیتے ہیں تو ی ملک سے غداری کرتے ہیں۔ملک نے انہیں ایسا کوئی اختیار نہیں دیا کہ وہ اکیلے کوئی فیصلہ دے دیں۔قوموں کو اقلیت قرار دینا کسی فرد کا کام نہیں۔یہ کام ملک کے آئین کا ہے۔اور جب حکومت کو اس قسم کے خطرے میں ڈال دیا جائے تو یہ ڈکٹیٹر شپ کی آواز ہے جسے بلند کیا جاتا ہے۔پس تم خوش کیسے ہو سکتے ہو کہ بلا ٹل گئی۔اس بلا ء کا تمہارے اور تمہارے بیوی بچوں پر آنا جتنا خطر ناک ہے حکومت اور اس کے وزراء پر آنا اس سے بھی زیادہ خطر ناک ہے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ ملک کا نظم و نسق سالہا سال تک خراب ہوتا جائے۔جیسے جنوبی امریکہ کی ریاستوں میں ہوتا ہے یا بلقان کی ریاستوں میں ہوتا ہے کہ ایک حکومت قائم ہوئی اور ٹوٹ گئی پھر دوسری کی حکومت آئی مگر پھر بغاوت ہوئی اور دوسری پارٹی غالب آگئی۔انگریزی میں یہ محاورہ بن گیا ہے کہ جب کسی فتنے کو بیان کرنا ہو تو کہا جاتا ہے کہ یہ بات تو بلقان والی ہے۔اسی طرح امریکہ والے کہتے ہیں یہ حالت تو جنوبی امریکہ کی ریاستوں کی سی ہے۔وہاں بھی یہی ہوتا ہے کہ کبھی ایک حکومت قائم ہوتی ہے اور کبھی دوسری پارٹی اُس پر غالب آ کر اپنی نئی حکومت قائم کر لیتی ہے۔پس یہ لوگ جو چاہیں مطالبہ کریں لیکن اس کا جمہوری طریق یہ ہے کہ وہ آئندہ اسمبلی میں ایسے نمائندے بھیجیں جو ان کی بات کی وہاں تائید کریں اور ان کے منشاء کے مطابق قانون