خطبات محمود (جلد 34)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 34 of 402

خطبات محمود (جلد 34) — Page 34

خطبات محمود 34 =4 $ 1953 اب دیکھو خدا تعالیٰ کے نزدیک اس کی ساری مخلوق اس چڑیا کے بچہ کے مقابلہ میں کچھ بھی نہیں تھی۔اس بچہ کی پیاس بجھانے کے لیے خدا تعالیٰ نے اپنی دوسری مخلوق کو تباہ کر دیا۔اب ہے تو یہ ایک کہانی اور خواہ یہ کتنی مجروح ہو، کتنی متروک ہو لیکن اس سے یہ سبق ضرور ملتا ہے کہ بعض دفعہ ایک چھوٹے سے اور بے حیثیت آدمی کے مقابلہ میں بھی اُن لوگوں کی پروا نہیں کی جاتی جو با حیثیت ہوتے ہیں لیکن در حقیقت بے حقیقت ہوتے ہیں۔ان سب کے مقابلہ میں ایک چھوٹے سے اور بے حیثیت آدمی کی پروا کی جاتی ہے جو بے حقیقت نہیں ہوتا۔پس روزے رکھنے والے چاہے چار لاکھ میں سے دس ہزار ہوں چار پانچ ہزار ہوں۔صاف بات ہے کہ خدا تعالیٰ کے نزدیک وہی مقبول ہیں۔ان دس ہزار یا پانچ ہزار لوگوں نے دعا کر دی تو خدا تعالیٰ کے نزدیک کام ہو گیا۔لیکن دوسرے لوگ اس کی برکتوں اور فضلوں سے محروم رہیں گے۔حضرت لوط علیہ السلام کی قوم پر جب عذاب آیا تو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے دعا کی۔اس کا بائبل میں ذکر ہے۔یونہی روایت یا کہانی نہیں۔حضرت ابراہیم علیہ السلام نے دعا کی اے اللہ! تو انہیں بخش دے۔خدا تعالیٰ نے کہا اس گاؤں یا بستی میں گند بھرا ہے میں انہیں کس طرح بخش دوں۔حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کہا اے اللہ ! آخر ساری قوم تو گندی نہیں ہوتی۔اگر اس گاؤں کے اندرسو آدمی نیک ہوں تو کیا ان گندے لوگوں کی وجہ سے تو اُن سو آدمیوں کو بھی تباہ کر دے گا ؟ خدا تعالیٰ نے کہا نہیں ابراہیم! اگر اُس بستی میں سو آدمی نیک ہوں تو میں اُس بستی کو تباہ نہیں کروں گا۔حضرت ابراہیم نے سمجھا کہ اس گاؤں میں سو آدمی بھی نیک نہیں۔تو آپ نے کہا الہی ! اگر سونہیں تو نوے ہی سہی۔صرف دس کا فرق ہے۔اگر نوے آدمی اس بستی میں نیک ہوں تو کیا تو دوسروں کے ساتھ ان کو بھی تباہ کر دے گا اللہ تعالیٰ نے فرمایا ابراہیم ! اگر نوے آدمی بھی اس بستی میں نیک ہوں تو میں اس بستی کو تباہ نہیں کروں گا۔حضرت ابراہیم نے سمجھا کہ اس بستی میں نوے آدمی بھی نیک نہیں۔آپ نے کہا اگر اسی آدمی نیک ہوں تو کیا تو ان کو دوسرے لوگوں کے ساتھ تباہ کر دے گا؟۔خدا تعالیٰ نے کہا ابراہیم ! اگر استی نیک آدمی بھی ای ہوں تو میں اس بستی کو تباہ نہیں کروں گا۔اس طرح حضرت ابراہیم علیہ السلام نے تعداد کم کرتے کرتے کہا۔الہی ! اگر اس بستی میں دس نیک آدمی بھی ہوں تو کیا تو اُن کو تباہ کر دے گا؟ اللہ تعالیٰ نے کہا نہیں ابراہیم ! اگر دس آدمی بھی نیک ہوں تو میں اس بستی کو تباہ نہیں کروں گا۔اس کے بعد حضرت ابراہیم علیہ السلام