خطبات محمود (جلد 34)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 373 of 402

خطبات محمود (جلد 34) — Page 373

خطبات محمود 373 $1953 پس سنی ہوئی بات پر یقین کرنا درست نہیں ہوتا۔جو لوگ اس موقع پر امداد کے لیے گئے ہی تھے انہیں یہ سوچنا چاہیے تھا کہ ریل والے اُن لوگوں کو ساتھ لے گئے ہیں تو وہ انہیں اسٹیشن پر چھوڑ دیں گے۔شہر کے اندر کیسے پہنچائیں گے۔اسٹیشن پر پہنچنے کے بعد بھی وہ مدد کے محتاج ہیں۔انہیں یہ سمجھ لینا چاہیے تھا کہ لالیاں ایک چھوٹا سا قصبہ ہے۔اگر چہ اُس کی آبادی زیادہ ہے لیکن وہاں اتنے سامان موجود نہیں جتنے ہمارے پاس ہیں۔وہاں جو ڈا کٹر ہیں وہ گھٹیا قسم کے ہیں۔چنانچہ جیسا کہ مجھے پتا لگا ہے ایک مریض کی حالت خطر ناک تھی مگر وہاں کا ڈاکٹر زخم کی اہمیت کو محسوس نہیں کرتا تھا، ہمارے آدمیوں نے اُسے توجہ دلائی کہ جس زخم کو وہ معمولی سمجھ رہا ہے وہ معمولی نہیں۔پس ضروری تھا کہ وہ لوگ اسٹیشن پر جاتے ، اُن کا علاج کرتے اور انہیں ہسپتال پہنچاتے۔یہاں تک کے کہ انہیں یقین ہو جاتا کہ اُن میں سے ہر ایک شخص بچ گیا ہے۔اب محبہ ہے کہ ان میں سے ایک کی جان بچی ہے یا نہیں؟ بہر حال یہ واقعہ ایک تو ہمیں خدا تعالیٰ کے اس نشان کی طرف توجہ دلاتا ہے کہ اگر وہ کسی کی کو بچانا چاہتا ہے تو باوجود موت کے سارے سامان موجود ہونے کے اُسے بچا لیتا ہے۔کوئی شخص یہ قیاس بھی نہیں کر سکتا کہ ایک کا رکو دو فرلانگ تک انجن دھکیلتا ہوا لے جائے اور پھر اُس کے اندر کی سواریاں سلامت رہ جائیں۔مجھے تو یقین ہے کہ ان میں سے کسی کی نیکی خدا تعالیٰ کو اتنی پیاری لگی ہے ہے کہ اُس کی خاطر اُس نے ان سب کو بچالیا۔بعض اوقات ایک دنیا دار بھی ایسا کام کر لیتا ہے۔جو اللہ تعالیٰ کو پیارا لگتا ہے۔دوسرا سبق ہمیں اس واقعہ سے یہ ملتا ہے کہ خدام کو اپنے طور پر ریڈ کر اس کا سا محکمہ قائم کرنا چاہیے۔اور پھر کوئی علامت مقرر کر یں۔مثلاً فلاں قسم کی گھنٹی بجے تو فلاں شخص اردلی کے طور پر ، فلاں فلاں کمپونڈر کے طور پر اور فلاں فلاں ڈاکٹر کے طور پر فوراً پہنچ جائیں۔موقع پر آدمیوں کو اکٹھا کرنا مشکل ہوتا ہے۔کوئی خاص نشان مقرر کر لیا جائے۔مثلاً رکھ لیا جائے کہ اگر ہسپتال پر گھنٹی بجے تو فلاں شخص اردلی کے طور پر ، فلاں کمپونڈر کے طور پر اور فلاں ڈاکٹر کے طور پر فلاں مقام پر پہنچ جائے۔پھر گاڑی والوں کو کہا جائے کہ وہ فوراً اپنی گاڑی پیش کریں، اور پھر بعض سائیکلوں والے مقرر کر دئیے جائیں کہ وہ ایسے موقع پر پہنچ جایا کریں تا اس میں زیادہ دیر نہ لگے۔مجھے خوشی ہوئی ہے کہ خدام نے بہت جلد اس کام کو سنبھال لیا اور وہ آدھ گھنٹہ میں امداد کے لیے