خطبات محمود (جلد 34) — Page 356
$1953 356 خطبات محمود صرف وقت آنے پر بعض لوگوں کو بھرتی کر لیا جاتا تھا اور وہ لڑائی میں چلے جاتے تھے۔دوتین سو سال قبل یورپ میں بھی یہی حالت تھی۔جب لڑائی ہوتی تو بادشاہ نوابوں کو بلواتے۔جن کے ذمہ پہلے ہی ایک تعداد لگادی جاتی تھی۔اور نواب اپنے ماتحتوں کو حکم بھجوا دیتے کہ اتنے آدمی مہیا کئے جائیں۔اُن میں سے بعض موچی ہوتے ، بعض لوہار ہوتے ، بعض ترکھان ہوتے ، بعض دھوبی ہوتے اور بعض نائی ہوتے۔وہ اپنے نیزے اور تلوار میں لے کر جمع ہو جاتے۔اس زمانہ میں لڑائیاں بھی درحقیقت ایک اکھاڑا ہوا کرتی تھیں۔اکھاڑا میں لوگ جمع ہوئے ، گشتی ہوئی اور ی گھروں کو واپس چلے گئے۔جب سے فوجیں با قاعدہ اور منظم ہوئی ہیں ،لڑائی کی شکل بدل گئی ہے ہے۔اب ہر فوجی قدم ملا کر چلتا ہے۔وہ اپنے فرض کو سمجھتا ہے اور وقت پر وہ اپنا فرض ادا کرتا ہے ہے۔ہر شخص کو یہ سکھایا جاتا ہے کہ تمہارا دشمن تم پر حملہ کرنے کے لیے کیا کیا طریق اختیار کرے گا اور تم نے دفاع کے لیے کیا کیا طریق اختیار کرنے ہیں۔اگر تم نے دشمن پر حملہ کرنا ہے تو حملہ کرنے کی کے لیے کون کون سی جگہیں مناسب ہوں گی۔حملہ کے وقت تمہیں کس کس قسم کی تیاری کی ضرورت کی ہے۔فوج کے کتنے حصے بنانے ہیں۔توپ خانہ اور سواروں اور آج کل موٹروں سے کس طرح کا مالی لینا ہے۔یہ ساری باتیں وقت سے پہلے سپاہیوں کو سکھا دی جاتی ہیں۔اور پھر وہ سارا سال ان باتوں کی مشق کرتے رہتے ہیں۔اسی لئے اب جو جنگیں ہوتی ہیں وہ ماہرینِ فن کی ہوتی ہیں۔یہی حال باقی چیزوں کا ہے۔اسکولوں میں بھی دیکھ لو استاد ٹرینڈ ہوتے ہیں۔ا استادوں کو ٹرینڈ کرنے کی ضرورت اس لیے پیش آتی ہے کہ یہ محسوس کیا گیا ہے کہ خالی تعلیم کا فی نہیں تعلیم دینے کا ملکہ ہونا بھی ضروری ہے۔اسکولوں کو فوج سے کوئی تعلق نہیں۔لیکن چونکہ یہ کام اہم تھا اور اس کا تعلق تمام ممالک سے تھا اس لیے استادوں کی ٹریننگ کی ضرورت تسلیم کی گئی ہے۔اسی طرح باقی کاموں میں بھی آہستہ آہستہ تربیت کا طریق جاری کیا جا رہا ہے۔مثلاً ڈاکٹروں کے متعلق یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ وہ امتحان پاس کرنے کے بعد تین سال تک گورنمنٹ سروس کریں۔اس سے جہاں یہ فائدہ ہے کہ سرکاری ہسپتالوں میں قابل ڈاکٹر مہیا ہو سکیں گے وہاں یہ فائدہ بھی ہے کہ وہ کامیاب اور تجربہ کار ڈاکٹروں کے ماتحت کام کر کے ٹریننگ حاصل کر لیں گے اور پھر کامیابی سے پرائیویٹ پریکٹس کر سکیں گے۔۔