خطبات محمود (جلد 34)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 302 of 402

خطبات محمود (جلد 34) — Page 302

$1953 302 خطبات محمود سے آئے ہیں۔کوئی کہتا ہے میں خود بخود اس دنیا میں آگیا ہوں۔کوئی کہتا ہے مجھے برہمانے پیدا کیا ہے۔کوئی کہتا ہے مجھے خدا نے پیدا کیا ہے۔کوئی کہتا ہے مجھے گاؤ نے پیدا کیا ہے۔اور کوئی کہتا ہے کہ مجھے پر میشور نے پیدا کیا ہے۔کوئی کہتا ہے مجھے اللہ نے پیدا کیا ہے۔اور یہ نہیں جانتے کہ یہ سارے ایک ہی وجود ہیں۔پر میشور بھی وہی ہے، برہما بھی وہی ہے، اللہ بھی وہی ہے۔فرق صرف ی یہ ہے کہ غیر قوموں نے اللہ تعالیٰ کو صفاتی نام دے دیئے ہیں اور عربوں نے اسے ایک ذاتی نام دے دیا ہے۔اور ذاتی نام صفاتی نام سے زیادہ مکمل ہوتا ہے۔اگر لوگ سمجھتے کہ وہ سارے ایک ہی ملک سے آئے ہوئے ہیں، اگر وہ سمجھتے کہ ہم اس دنیا میں بالکل ایک وارث کی طرح ہیں تو وطنیت کی وجہ سے وہ ایک دوسرے سے محبت کرتے۔نیکی کا سلوک کرتے۔وہ سمجھتے کہ ہم سب کا ایک ہی مشن ہے، ایک ہی کام ہے۔اس لیے ہمیں مل کر کام کرنا چاہیے تا قیامت کے دن حضرت الہی کی عزت کے ساتھ ہمارا استقبال کریں۔غرض بنی نوع انسان کی محبت کو بڑھانے کی کوشش کرنی کی چاہیے۔اور اُن ذرائع کا استعمال کرنا چاہیے جن پر عمل کرنے سے خدا تعالیٰ کی محبت حاصل ہوتی ہے۔اور وہ ذرائع نماز ، روزہ ، زکوۃ، حج اور ذکر وفکر ہیں۔یه ساری باتیں ایسی ہیں جن سے خدا تعالیٰ کی محبت اور اسکی اطاعت کا اظہار ہوتا ہے۔اللہ تعالیٰ پر ایمان لانا اور چیز ہے اور اُس سے محبت کرنا اور چیز ہے۔مثلاً تمہارے گھر میں کوئی بچہ بیمار ہو جاتا ہے۔اس کے لیے تم کوئی دوا تلاش کرتے ہو۔وہ دوا تمہیں بازار سے ملتی نہیں۔تم مایوس ہو جاتے ہو۔ڈاکٹر کہتے ہیں کہ اگر یہ دوانہ ملی تو بچہ کی جان نہیں بچ سکتی۔اُدھر ماں روتی ہے ادھر باپ غمگین ہوتا ہے۔اچانک رات کو کوئی آکر دروازہ پر دستک دیتا ہے۔تم دروازہ کھولتے ہو تو وہ تمہیں وہی دوا جس کی تمہیں ضرورت ہے دیتا ہے اور چلا جاتا ہے۔اب تمہیں یہ تو خیال رہے گا کہ رات کو جس شخص نے تمہیں وہ دوا دی تھی اُس نے تم پر بڑا احسان کیا ہے اور تمہارے بچے کی جان بچانے میں اس نے تمہاری مدد کی ہے۔لیکن تمہارے اندر اس کے متعلق ہمدردی کا کوئی جذبہ نہیں ہوگا۔کیونکہ تم نے اُسے دیکھا نہیں۔وہ اندھیرے میں آیا اور اندھیرے میں غائب ہو گیا۔اگر وہی شخص جس نے تم پر اتنا بڑا احسان کیا ہو تمہیں مل جائے تو تم اس کی طرف کوئی توجہ نہیں کرو گے۔لیکن اگر تمہیں پتا لگ جائے کہ فلاں شخص نے تم پر احسان کیا ہے اور وہ تمہیں رستہ میں مل جائے تو تم