خطبات محمود (جلد 34) — Page 303
$1953 303 خطبات محمود اُس سے چمٹ جاؤ گے۔اسی طرح اللہ تعالیٰ کو ماننا اور چیز ہے اور اسکے احسانوں کو جانا اور اُن کا ذکر کرنا اور چیز ہے۔اگر کوئی شخص کسی سے اندھیرے میں احسان کر جائے تو وہ اس کا ذکر تو کرتا رہے گا۔لیکن ذاتی طور پر اس سے محبت کے جذبات پیدا نہیں ہوں گے۔اسی طرح جس ذات نے تمہیں پیدا کیا ہے۔اُس پر ایمان لانا بالکل اور چیز ہے۔اور یہ سمجھنا کہ جو کچھ تمہارے پاس ہے اُسی کا دیا ہوا ہے اس کے ساتھ جو جذ بہ محبت پیدا ہوتا ہے وہ بالکل اور چیز ہے۔پس تم نماز ، روزہ ، زکوۃ ، اور ذکر و فکر سے خدا تعالیٰ سے محبت پیدا کرو۔یہ تمام چیزیں خدا تعالیٰ سے محبت پیدا کرنے کے ذرائع ہیں۔ان ذرائع کو اختیار کئے بغیر تم خدا تعالیٰ کے ساتھ محبت پیدا نہیں کر سکتے۔ہزاروں لوگ دنیا میں ایسے پائے جاتے ہیں جو ماں باپ کے احسانوں کو دیکھتے ہوئے بھی ان کے ساتھ محبت نہیں کرتے۔اور کئی ایسے لوگ ہیں جو ماں باپ سے محبت کرتے ہی ہیں۔اور کئی لوگ ایک وقت تک بھٹکے رہتے ہیں اور پھر اُن کے اندر اطاعت پیدا ہو جاتی ہے۔اللہ تعالیٰ کی عبادات کے ذریعہ بھی دل میں صفائی پیدا ہوتی ہے۔اور وہ زنگ دور ہوتا ہے جس کے ساتھ انسان کے اندر طبعی جذبات پیدا نہیں ہو سکتے۔انسان کی فطرت تو یہ ہے کہ وہ اپنے محسن سے محبت کرنے لگ جاتا ہے۔جیسے رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔جُبِلَتِ الْقُلُوبُ على حُبِّ مَنْ اَحْسَنَ إِلَيْهَا 5- یعنی انسانوں کے دل اس طرح پیدا کئے گئے ہیں کہ جو شخص ان پر احسان کرے انہیں اُس سے محبت پیدا ہو جاتی ہے۔لیکن کئی لوگ ایسے ہیں جو خدا تعالیٰ کے سارے احسانوں کے باوجود اسے بھول جاتے ہیں۔یہ چیز غیر طبعی ہے۔ورنہ انسان کی فطرت یہی ہے کہ وہ اپنے احسان کرنے والے سے محبت کرتا ہے۔لیکن کئی دفعہ گنا ہوں اور بد عادتوں کی وجہ سے انسانی فطرت سے دور جا پڑتا ہے۔فطرتی جذبات کو دوبارہ ابھارنے کے لیے نماز ، روزہ، زکوۃ ، اور ذکر الہی کی ضرورت ہے۔یہ چیزیں انسان کو یکدم ہوش دلا دیتی ہیں کہ اُس نے فلاں ڈیوٹی ادا کرنی ہے۔اکثر آدمی ایسے ہوتے ہیں جو اپنے فرائض کو بھول جاتے ہیں۔پھر سونٹے سے انہیں اس طرف توجہ پیدا ہوتی ہے۔ہمارے صلحاء اور اولیاء میں سے ایک بزرگ ولایت کے مقام کو حاصل کرنے سے پہلے دنیا دار تھے۔وہ دنیاوی کاموں اور لہو و لعب میں ہمیشہ مشغول رہتے تھے۔ایک بزرگ نے جو اُن سے پہلے کے