خطبات محمود (جلد 34) — Page 153
$1953 153 خطبات محمود لوگ دکھاوے سے ایسا کرتے ہیں۔اگر یہ سودا سلف میں دیانتداری سے کام لے گا تو دوسرا شخص چپ ہو جائے گا۔کیونکہ دنیا میں کوئی پاگل سے پاگل انسان بھی ایسا نہیں جو یہ کہے کہ فلاں شخص دکھاوے کی دیانتداری کرتا ہے فلاں شخص سچ بولتا ہے تو دکھاوے کا سچ بولتا ہے کیونکہ سچ بولنے اور دیانتداری کو دکھاوے سے کوئی تعلق نہیں۔ہاں لوگ اس طرح کہہ سکتے ہیں کہ یہ لوگ موقع پر جھوٹ بول لیتے ہیں۔لیکن یہ کوئی نہیں کہے گا کہ یہ سچ بولتا ہے لیکن دکھاوے کے لیے بولتا ہے۔ہاں یہ کہے گا کہ فلاں شخص دو تین پیسے کے لیے بے ایمانی نہیں کرتا ہاں ہزاروں کے لیے بے ایمانی کر لیتا ہے۔مگر یہ نہیں کہے گا کہ فلاں دیانتداری سے کام لیتا ہے تو دھوکا دینے کے لیے ایسا کرتا ہے۔پس تم اپنے اُن اعمال کی درستی کرو جو دوسروں کو نظر آتے ہیں تا اُن اعمال کی درستی ہو جائے جو نظر نہیں آتے۔تا تم اُس ذات کے ساتھ صلح کر لو جو تمہارے ظاہر و باطن کو دیکھتی ہے۔" خطبہ ثانیہ میں فرمایا " نماز جمعہ کے بعد میں بعض جنازے پڑھاؤں گا۔1۔ایس۔کے داؤد صاحب 1943ء میں بیعت کی تھی۔مخلص احمدی تھے 21 جنوری 1953 ء کوفوت ہوئے۔2۔عبدالحمید صاحب جو عبدالرشید صاحب ایم۔اے کے چچا تھے فوت ہو گئے ہیں۔پرانے احمدی تھے۔ان کے بہت سے بھائی حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر ابتدائی ایمان لانے والے تھے منشی عبدالعزیز صاحب بھی اسی خاندان میں سے تھے۔فاطمہ بی بی صاحبہ جو مولوی خلیل الدین احمد صاحب، پدن پیدا اُڑیسہ کی بچی تھیں فوت ہو گئی ہیں۔مرحومہ مویہ تھی اور تحریک جدید میں شروع سے حصہ لیتی آرہی تھیں۔جنازہ صرف چار احمد یوں نے پڑھا۔4۔چودھری علی محمد صاحب کچھ عرصہ بیمار رہ کر فوت ہو گئے ہیں۔مرحوم نے 1934ء میں بیعت کی تھی۔کوٹلی گوجراں متصل کا ہنوں وال کے رہنے والے تھے۔مخلص احمدی اور پابند صوم وصلوٰۃ تھے۔تہجد گزار بھی تھے۔چک نمبر 344 نز د دنیا پور میں وفات پائی۔جنازہ میں دو تین آدمی شریک ہوئے۔5۔سید قمر الحق صاحب دفتر وصیت ربوہ کی بڑی ہمشیرہ اپنے مکان کے تالاب میں ڈوب کر فوت ہو گئیں۔نزدیک کوئی جماعت نہیں تھی۔صرف گھر کے چند افراد نے جنازہ پڑھا۔6 عبدالعزیز صاحب دفتر محاسب اطلاع دیتے ہیں کہ ان کے چھوٹے بھائی عبد الحکیم صاحب ! گاؤں چاہ اسرا تحصیل لودھراں ضلع ملتان میں فوت ہو گئے ہیں۔نزدیک کی جماعتوں احمدی دوست جنازہ میں شریک نہ ہو سکے۔صرف میں نے اکیلے جنازہ پڑھا۔ނ