خطبات محمود (جلد 34)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 152 of 402

خطبات محمود (جلد 34) — Page 152

$1953 152 خطبات محمود تو اُس کے متعلق کوئی شخص یہ نہیں کہہ سکتا کہ اس نے یہ کام محض دکھاوے کے طور پر کئے ہیں۔تم دنیا میں لاکھوں لاکھ ایسے آدمی دیکھو گے جو کسی کو نماز پڑھتا دیکھ کر یہ کہہ دیں گے کہ یہ شخص محض دکھاوے کے طور پر ایسا کر رہا ہے۔لیکن ایسا شخص ایک نہ ملے گا جو ایسے شخص کو جو دیانت سے کام لے کہے کہ یہ دھوکا سے کام لے رہا ہے۔کیونکہ یہ دونوں باتیں متضاد ہیں اور کسی صورت میں بھی اکٹھی نہیں ہوسکتیں۔میں جب خلیفہ ہوا ہوں۔اُس وقت میری عمر چھوٹی تھی۔غیر مبائع طعنے دیتے تھے کہ انہوں نے ایک بچے کو اپنا لیڈر بنالیا ہے۔اُس وقت میری نسبت ایسا کہنا کوئی مستبعد امر نہ تھا۔لیکن اب میری خلافت پر 39 سال گزر چکے ہیں۔اب میں کہہ سکتا ہوں جیسے حضرت داؤد علیہ السلام نے کہا تھا کہ میں نے اپنی عمر میں یہ امر نہیں دیکھا کہ کوئی شخص سچ بولتا ہو تو دھوکا دینے کے لیے بولتا نی ہو۔وہ ٹھگی سے بچتا ہو تو دھوکا دینے کے لیے بچتا ہو۔کیونکہ سچ دھوکا دینے کے لیے بولا ہی نہیں کی جاتا۔دھوکا، ٹھگی کرنے کے لیے کیا جاتا ہے۔تم ہزاروں نہیں ، لاکھوں لوگ ایسے دیکھو گے جو کہیں گے فلاں شخص نماز دھوکا دینے کے لیے پڑھتا ہے، وہ لین دین میں دھوکا کرتا ہے ، فریب کرتا ہے ہے، ہر بات میں جھوٹ بولتا ہے۔لیکن تم چوہڑوں اور چماروں سے بھی یہ بات نہیں سنو گے کہ فلاں شخص ایمانداری کرتا ہے تو دھوکا دینے کے لیے کرتا ہے۔فلاں شخص انصاف کرتا ہے تو دھوکا دینے کے لیے کرتا ہے۔فلاں سچ بولتا ہے تو دھوکا دینے کے لیے بولتا ہے۔جاہل سے جاہل آدمی کی بلکہ ایک نیم پاگل سے بھی یہ بات نہیں سنو گے۔کیونکہ یہ چیز نظر آتی ہے اور دوسری چیز نظر نہیں آتی۔پس تم اپنے اندر تغیر پیدا کرو۔ورنہ یہ مت سمجھو کہ دیکھنے والے تمہیں دیکھتے نہیں اور فیصلہ کرنے والے تمہارے متعلق کوئی فیصلہ نہیں کرتے۔پھر جس کے سامنے تم نے جانا ہے وہ تو تمہیں دیکھتا ہے اور اُس نے تمہارے متعلق فیصلہ کرنا ہے۔تمہیں تو اس دنیا کے اندھے ، نیم عقل والے اور دہریے بھی دیکھتے ہیں۔اور جس امر کو ایک دہریہ ، نیم پاگل اور جاہل مطلق انسان بھی دیکھتا ہو اس کے متعلق تمہارا یہ خیال کر لینا کہ اُسے خدا تعالیٰ نہیں دیکھتا تمہارا پاگل پن نہیں تو اور کیا ہے۔پس تم اپنے اندر تغیر پیدا کرو اور دوسروں کو نظر آنے والے اعمال درست کرو تا تمہارے باطنی اعمال آپ ہی آپ درست ہو جائیں۔اس طرح دیکھنے والے کو یہ موقع نہیں ملے گا کہ وہ کہے کہ یہ