خطبات محمود (جلد 34) — Page 151
$1953 151 خطبات محمود تم دنیا کے کسی کنارا پر چلے جاؤ تم جاپان میں چلے جاؤ۔چین میں چلے جاؤ۔یورپ میں چلے جاؤ۔ایشیا کے تمام ممالک میں چلے جاؤ۔عیسائیوں میں چلے جاؤ۔ہندوؤں میں چلے جاؤ۔بدھوں میں چلے جاؤ سکھوں میں چلے جاؤ۔اور کہو سچ بولنا اچھا ہے یا جھوٹ بولنا اچھا ہے؟ ہر ایک شخص بلا استثناء یہ کہے گا کہ سچ بولنا اچھا ہے۔تم اگر کہو گے کہ ظلم کرنا اچھا ہے یا انصاف کرنا اچھا ہے؟ تو چاہے کوئی شخص ظالم ہو یا منصف ، وہ یہی کہے گا کہ انصاف کرنا اچھا ہے۔تم کسی ایسی مجلس میں چلے جاؤ جس میں دو چار چور بھی بیٹھے ہوں اور دریافت کرو کہ چوری کرنا اچھی چیز ہے یا بری ؟ تو جولوگ چور ہوں گے وہ سب سے اونچی آواز میں کہیں گے کہ چوری بُری چیز ہے۔اور ی باقی لوگ بھی اُسے بُرا کہیں گے۔پس کوئی چیز انسان کو نظر آتی ہے اور کوئی نہیں۔اگر تم نظر نہ آنے والی چیزوں پر انحصار کرتے ہو تو تم بے وقوف ہو۔ہمیں لوگوں کے سامنے نظر آنے والی چیزیں پیش کرنی چاہئیں۔جب وہ انہیں دیکھیں گے تو وہ ہمارے قریب آجائیں گے۔لیکن اگر تم نظر نہ آنے والی چیزوں پر ای زور دو گے تو گو میری سمجھ میں یہ بات نہیں آسکتی کہ تم دن کو تو دودھ میں پانی ملا کر بیچو اور رات کو تہجد پڑھنے لگ جاؤ ، یا دن کے وقت تو تم انگلی مار کر گاہک کو سیر کی بجائے 15 چھٹانک دیتے ہو اور تی رات کو تہجد پڑھتے ہو جیے۔جو شخص موٹی موٹی چیزوں کو نہیں چھوڑ سکتا اُس کے متعلق یہ خیال کر لینا کہ وہ عبادت میں خاص لذت محسوس کرتا ہے یا دعاؤں میں اُسے خاص توجہ پیدا ہوتی ہے غلط ہے۔لیکن فرض کرو کہ وہ عبادت میں خاص لذت بھی محسوس کرتا ہے تو تم غور کرو کہ یہ بات بتانے کے بعد کتنے عیسائی، ہندو، یہودی اور سکھ اس سے متاثر ہوں گے؟ کتنے دہریے اس سے متاثر ہوں گے؟ لیکن سچ بولنے ، دیانت سے کام کرنے ، ٹھیک تول کر دینے اور لوٹ مار نہ کرنے سے کتنے لوگ ہمارے قریب آ سکتے ہیں؟ تمہارا دعائیں کرنا اور تہجد پڑھنا دوسروں کو تو کیا احمدیوں کو بھی متاثر نہیں کرتا۔ان میں سے بعض کہیں گے یہ شخص بڑا بے ایمان ہے یہ دکھاوے کے طور پر تہجد پڑھتا ہے۔لیکن اگر کوئی سچ بولے، لین دین میں دھوکا نہ کرے فریب نہ کرے،انصاف سے کام لے لطیفہ یہ ہے کہ اس خطبہ کے بعد منتظم بازار نے رپورٹ کی کہ ربوہ کے کھانڈ کے ڈپو میں سیر تولنے کے لیے ترازو اسی طرح رکھا گیا تھا کہ پندرہ چھٹانک میں سیر معلوم ہو۔گرفت پر کہا گیا کہ ہمیں گورنمنٹ سے کم وزنی کھا نڈ ملاتی ہے۔