خطبات محمود (جلد 34)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 124 of 402

خطبات محمود (جلد 34) — Page 124

$1953 124 خطبات محمود ریب کرتا ہے یا حرام کاری کرتا ہے تو لوگ کہتے ہیں لعنت ہے اس شخص پر کہ یہ بڑھا بھی ہوگیا اور پھر بھی اُس نے جھوٹ بولنا، فریب کرنا، اور حرامکاری کرنا ترک نہیں کیا۔گویا بڑھاپے میں یہ جرم اور بھی زیادہ ہے ہو جاتا ہے۔پس تم اپنے اندر نیکی پیدا کرو اور قوم کی اصلاح کرو۔اگر تم اب اپنی قوم کی اصلاح نہیں کر سکتے تو آج سے سو دو سو سال کے بعد تمہاری جماعت ڈاکوؤں کی جماعت ہوگی۔آج احمدیت کی تعلیم ابھی تازہ ہے، حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی زندگی کے حالات جاننے والے ابھی موجود ہیں۔اگر آج تم میں بے ایمانی پیدا ہو جاتی ہے، حرام خوری پیدا ہو جاتی ہے تو تمہارے مرکز میں آنے اور احمدیت قبول کرنے کا کیا فائدہ۔اگر آج تم بے ایمانی اور حرام خوری کو نہیں نکال سکتے تو سو دوسوسال کے بعد تمہاری اولادیں اس کی اصلاح نہیں کر سکیں گی۔وہ لوگ تو اُس وقت خوش ہوں گے۔زندگی کے ہر شعبہ میں تم میں سے کچھ کمزور ہیں۔تمہاری کمپنیاں ہیں تو ان میں سے بعض میں دھوکا بازی ہوتی ہے۔تمہارے افراد تجارت کرتے ہیں تو ان میں سے بعض جھوٹ بولتے ہیں۔تمہارے دکاندار ہیں تو ان میں سے بعض بے ایمان ہیں۔انہیں یہ احساس ہی نہیں ہوتا کہ انہوں نے احمدیت کو زندہ درگور کر دیا ہے۔جو شخص ظاہری موت قبول کرتا ہے اسے اگلی زندگی مل جاتی ہے۔لیکن جس کی روحانی زندگی ختم ہو جاتی ہے اُس کا کوئی علاج نہیں ہو سکتا۔پس تم اپنے ماحول کا جائزہ لو۔تم اس وقت اس مرض کا علاج کی کر سکتے ہو۔کیونکہ تم اگر خدا تعالیٰ کی طرف ایک قدم اٹھاؤ گے تو خدا تعالیٰ تمہاری طرف دو قدم اٹھائے گا۔لیکن اگر تم نے اس وقت اس کی پروانہ کی اور حرامخوری کی حقیقت کو نہ سمجھا تو تم نے اپنی موت کا خود فتویٰ دیدیا۔جیسے عربی کی ایک مثل ہے کہ بکری نے اپنی موت خود اپنی ایڑی سے نکال لی Z۔کہتے ہیں کسی شخص نے ذبح کرنے کے لیے ایک بکری کولٹایا ہوا تھا۔لیکن چھری مٹی کے نیچے دب گئی۔بکری نے کی گھبرا کر لاتیں مارنی شروع کیں تو مٹی ہٹ گئی اور چھری نکل آئی۔اس پر یہ شل بن گئی کہ بکری نے اپنی ہی لات سے اپنی موت نکال لی۔تمہاری مثال بھی وہی ہوگی۔تم اب ان برائیوں کو چھوڑ سکتے ہو۔تم اب اپنی اصلاح کر سکتے ہو۔جن باتوں کو لاکھوں لاکھ عیسائی کر رہا ہے وہ تم کیوں نہیں کر سکتے تم میں سے ایک طبقہ کے سب کاموں میں حرامخوری اور بے ایمانی پائی جاتی ہیں۔پھر دوسرے لوگ گونگے بن جاتے ہیں وہ بولتے۔