خطبات محمود (جلد 34)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 72 of 402

خطبات محمود (جلد 34) — Page 72

$1953 72 خطبات محمود آتی ہیں۔اور تمام محدث اور مورخ اس بات پر متفق ہیں کہ پہلی آیت جو رسول کریم ﷺ پر نازل ہوئی وہ اِقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ 1 کی تھی۔حالانکہ موجودہ قرآن میں وہ سب آخری پارہ میں ہے۔اور آخری پارہ کے بھی آخری حصہ میں ہے۔اب کجا سب سے پہلے نازل ہونے والی آیت اور کجا قرآن کے سب سے آخری پارہ میں۔اور آخری پارہ کے بھی آخری حصہ میں اس کا رکھا جانا یہ بتاتا ہے کہ الہی حکمت کے ماتحت قرآن کریم کے نزول کی دو رتی ہیں لازمی تھیں۔ایک ترتیب وہ تھی جو ابتدائی مسلمانوں کے لحاظ سے اُن کے مناسب حال تھی اور ایک ترتیب وہ تھی جو آئندہ آنے والے مسلمانوں کے لحاظ سے جب قرآن مکمل ہو چکا تھا تی مناسب حال تھی۔اس کی دنیوی مثال یوں سمجھ لو کہ جیسے کھانا پکانے کے لیے باورچی کام شروع کرتے ہیں تو ی بعض دفعہ کھانے کی ترتیب کے لحاظ سے ایک چیز بعد میں آتی ہے۔لیکن پکانے کے لحاظ سے باورچی اُس کو پہلے پکاتا ہے۔اور کوئی چیز کھانے میں پہلے آتی ہے لیکن وہ اُس کو بعد میں پکاتا ہے۔اور اگر کوئی اعتراض کرے کہ یہ چیز جو پہلے کھانی تھی تم نے بعد میں کیوں پکائی ؟ تو وہ جواب دے گا کہ یہ کھانی بے شک پہلے تھی لیکن اس کے پکانے میں پندرہ منٹ لگتے ہیں۔اگر اسے پہلے ہی پکا لیا جاتا تو اس وقت تک یہ خراب اور باسی ہو جاتی۔اور جو چیز بعد میں کھانی تھی بے شک وہ کھانی بعد میں تھی مگر اس کے پکانے میں اڑھائی تین گھنٹے لگتے ہیں۔اگر اُس کو پہلے نہ پکایا جاتا تو یہ کچی رہتی ہے پس اس کی ترتیب حکمت کے ماتحت ہوتی ہے۔پکانے کی اور ترتیب ہوتی ہے اور کھانے کی اور ترتیب ہوتی ہے۔جب وہ پکاتا ہے تو اس امر کو نہیں دیکھتا کہ پہلے کونسی چیز کھانی ہے بلکہ وہ یہ دیکھتا ہے کہ جلدی کونسی چیز پکے گی اور دیر سے کونسی چیز پکے گی۔جو جلدی پک جاتی ہے اسے وہ بعد میں تیار کر لیتا ہے اور جو دیر میں پکتی ہے اُسے وہ پہلے تیار کرنا شروع کرتا ہے۔جو چیز دیر میں پکتی ہے اگر وہ اُسے دیر سے چڑھائے گا تو کھاتے وقت وہ چیز کچی ہوگی۔پس وہ دیر سے پکنے والی چیز کو چولہے پر پہلے رکھ لے گا خواہ وہ آخر میں کھائی جانے والی ہو۔اور جلدی پکنے والی چیز کو بعد میں تیار کرے گا خواہ وہ پہلے کھائی جانے والی ہو۔یہ مثال میں نے اس غرض کے لیے دی ہے کہ بعض چیزوں کی استعمال میں اور ترتیب ہوتی