خطبات محمود (جلد 34) — Page 58
$1953 58 خطبات محمود مثلاً یہ شائع ہو جائے کہ ایک ضلع میں ایک ہزار احمدیوں کو مار دیا گیا ہے تو ضلع کا ذمہ دار افسر اپنے عہدہ پر قائم نہیں رہ سکتا چاہے اوپر کے افسر اُس کے ہمدرد ہی ہوں۔پھر یہ خبر ساری دنیا میں پھیلنے والی ہے۔اس سے حکومت بد نام ہو جائے گی۔پس صحیح پالیسی یہی ہے کہ اگر کوئی قوم خطرہ میں ہو تو ی وہ اُس خطرہ کو اپنی ذات پر برداشت کرے۔اپنی جگہ سے بھاگ کر بہانہ خورافسروں کو بہانہ ہے بنانے کا موقع نہ دے۔وہ دشمن کو ہنسی کا موقع نہ دے اور نہ ہی بھاگ کر اپنے ایمان کو ضائع کرے۔اصل دیکھنے والی بات تو یہی ہے کہ کیا کوئی ایسا شخص دنیا میں پایا جاتا ہے جو ہمیشہ زندہ رہے ، مرے نہیں ؟ اور اگر کوئی ایسا شخص نہیں پایا جاتا جس نے ہمیشہ زندہ رہنا ہے۔اگر ہر انسان نے مرنا ہے تو پھر وہ عزت کی موت مرے بزدلی کی موت کیوں مرے۔دنیا کے تمام مذاہب اور ی اقوام کا یہ متفقہ مسئلہ ہے کہ انسان کو ایسے موقع پر اپنی جگہ سے نہیں ہلنا چاہیئے۔اُسے دشمن کے آگے ہتھیار نہیں پھینکنے چاہئیں۔یہ مسئلہ ایسا ہے جو دنیا کے نزدیک مسلم ہے۔اسلام اور دوسرے مذاہب کے نزدیک مسلمہ ہے۔جن لوگوں نے اخلاق پر غور کیا ہے وہ بھی یہی سمجھتے ہیں کہ ایسے موقع پر انسان کو اپنی جگہ سے نہیں ہلنا چاہیے۔اُسے ظالم کے سامنے اپنا سر نہیں جھکانا چاہیئے۔اس صورت میں اگر وہ مرجائے گا تب بھی اس کا نام زندہ رہے گا اور اگر زندہ رہے گا تو ہر شخص اُسے عزت کی نگاہ سے دیکھے گا۔اس لیے کہ اُس نے خطر ناک صورت حالات کا نہایت دلیری سے مقابلہ کیا ہے۔اب ایک نیا پہلو اس تحریک کا پیدا ہوا ہے اور وہ یہ ہے کہ بدقسمتی سے بعض سیاسی آدمیوں کی تحریک اور انگیخت پر اس فتنہ نے کراچی کا رُخ کیا ہے۔کہا جاتا ہے کہ چونکہ خواجہ ناظم الدین صاحب نے ہمارے مطالبات کو نہیں مانا اس لیے ہم اُن کے گھر پر پکٹنگ (PICKETING) کریں گے یا اور شورش جو ہم کر سکتے ہیں کریں گے۔اس فتنہ کے متعلق جو معلومات ہم نے حاصل کی ہیں اُن سے پتا چلتا ہے کہ ان لوگوں کی دو پارٹیاں ہو گئی ہیں۔ان میں سے ایک پارٹی وہ تھی جس کو پنجاب کے سرکردہ لوگوں کی مدد حاصل تھی۔وہ پارٹی اس بات کے حق میں تھی کہ اس فتنہ کو پنجاب سے نکالا جائے اور دوسری جگہ شروع کیا جائے تا پنجاب کی حکومت ، پنجاب ،مسلم لیگ اور اس کے کارکن بدنام نہ ہوں۔دوسری پارٹی یہ بجھتی تھی کہ احمدیوں کا غلبہ پنجاب میں ہے۔ہمیں یہیں شورش کرنی چاہیے تا جن لوگوں کے سامنے ہم نے جوش و خروش سے لیکچر دیئے ہیں۔ان کے سامنے مرنے مارنے کا اظہار کیا ہے انہیں