خطبات محمود (جلد 34)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 378 of 402

خطبات محمود (جلد 34) — Page 378

$1953 378 خطبات محمود تکلیف محسوس نہیں ہوتی۔اس نے جو فقرے کہے ہیں وہ کسی ایمان دار شخص کے منہ سے نہیں نکل سکتے۔یہاں کوئی شخص کھانے کے لیے نہیں آتا اور نہ ایسی تقریبیں تعیش اور آرام کے لیے مقرر کیا جاتی ہیں۔بلکہ اس قسم کی تقریبیں اس لیے مقرر کی جاتی ہیں تا لوگ دین کی باتیں سنیں اور اللہ تعالیٰ کے ذکر سے فائدہ اٹھائیں۔دنیا کی مجالس میں سے اگر کسی مجلس سے جلسہ سالانہ کو تشبیہہ دی جاسکتی ہے تو وہ صرف حج کا اجتماع ہے۔اس کا یہ مطلب نہیں ہے ہم اسے حج کا درجہ دیتے ہیں۔جیسے مخالف لوگ کہتے ہیں کہ ہم قادیان جانے کو حج کہتے ہیں۔حج وہی ہے جسے اسلام نے مقرر کیا ہے۔لیکن لوگوں کے جمع ہونے کی وجہ سے اس تقریب کو اگر کسی چیز سے مشابہت دی جاسکتی ہے تو وہ حج کا اجتماع ہے۔حج کو 1300 سال سے اوپر عرصہ ہو رہا ہے۔بلکہ اسلام سے بھی پہلے کئی ہزار سال سے حج کی تقریب چلی آرہی ہے۔لیکن مکہ میں ایک شخص کی روٹی کا بھی انتظام نہیں۔1300 سو سال سے زیادہ عرصہ سے مسلمان حج کے لیے مکہ مکرمہ میں جاتے ہیں۔اور ان میں سے کوئی بھی یہ نہیں کہتا کہ چونکہ ی یہاں روٹی کا انتظام نہیں اس لیے ہم واپس چلے جاتے ہیں۔لیکن یہاں تو کھانے کا انتظام بھی ہے ہے۔اور جہاں ہزاروں کے لیے رہائش اور کھانے کا انتظام کرنا تھوڑے آدمیوں کے سپر د ہو وہاں بعض کمزور لوگوں سے غلطیاں بھی ہوں گی۔اور پھر بعض طاقت ور لوگ بھی طاقت سے زیادہ کام ہونے کی وجہ سے غلطی کریں گے۔بہر حال یہ غلطیاں تو ہونگی۔لیکن ایک عقل مند شخص جو احمدیت کی حقیقت کو سمجھتا ہے اسے یہ نہیں سمجھنا چاہیے کہ یہ ایک زائد چیز ہے۔زمانہ کے حالات کی وجہ سے یہ درت پیدا ہوگئی ہے کہ یہاں آنے والوں کے لیے کھانے اور رہائش کا انتظام کر دیا جاتا ہے۔ور نہ حج کے موقع پر ایسا کوئی انتظام نہیں ہوتا۔اور پھر کوئی شخص شکایت نہیں کرتا۔عرسوں کو دیکھ لو۔بزرگوں کی قبروں پر عُرس ہوتے ہیں اور وہاں قوالیوں اور ناچ گانے کے سوا کیا ہوتا ہے۔لیکن عام لوگ عقیدت کی وجہ سے وہاں چلے جاتے ہیں۔وہاں ہر شخص کو صرف ایک روٹی اور تھوڑی سی دال دی جاتی ہے اور اسی غذا پر تین دن تک گزارہ کیا جاتا ہے۔حج میں لوگ چار دن تک جنگل میں بغیر کسی مکان کے گزارہ کرتے ہیں۔وہاں اس قسم کی تکلیف ہوتی ہے کہ جاوی لوگ روٹیاں پکا کر ساتھ لے جاتے ہیں۔اور جب بھوک لگتی ہے تو انہیں بھگو کر کھا لیتے ہیں۔یہاں تو سب سہولتیں صورت ہوتا