خطبات محمود (جلد 34)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 311 of 402

خطبات محمود (جلد 34) — Page 311

$1953 311 خطبات محمود الله سے گزرے ہیں۔باپ کسی جگہ تھا تو بیٹا کسی جگہ۔بھائی کسی جگہ تھا تو بہن کسی جگہ۔ایک لمبے عرصے تک بیوی کو خاوند کا اور خاوند کو بیوی کا پتا نہ لگ سکا۔ان تکلیف کے دنوں میں تم سب نے ایک جگہ پر رہنا تجویز کیا تو کیوں؟ صرف اس لیے کہ تم سمجھتے تھے کہ تمہارے سپر د ایک ایسا فرض ہے جس کو تم اکٹھے ہوئے بغیر ادا نہیں کر سکتے۔گویا تم نے یہ تسلیم کر لیا کہ ہم سب نے خدمت دین کرنی ہے۔اور خدمت دین اُس وقت تک ہو نہیں سکتی جب تک تم ایک جگہ پر اکٹھے نہ ہو جاؤ، ایک دوسرے سے مشورہ نہ کرو اور ایک دوسرے سے تعاون نہ کرو۔اس لیے تم نے اس مقام کو خدا تعالیٰ اور اُس کی کے دین کی خدمت کے لیے چن لیا۔یہی مقامات مقدسہ کی تعریف ہے کہ خدمت دین کے لیے انہیں بچن لیا جائے۔رسول کریم ﷺ کی جوتی بھی مقدس تھی۔کیونکہ محمد رسول اللہ ﷺ کا وجود مقدس تھا۔اسی طرح جب یہ مقام خدا تعالیٰ کے لیے ہو گیا ہے تو اس کے مکان اور اس کی گلیاں بھی ہے مقدس ہیں۔لیکن جب کوئی جگہ مقدس ہو جاتی ہے تو پہلی تقدیس اپنے ارادہ سے ہوتی ہے اور ی دوسری تقدیس اللہ تعالیٰ کی قبولیت سے ہوتی ہے۔پہلے تو ہم ارادہ کر لیتے ہیں کہ فلاں مقام ہم تی نے خدا تعالیٰ کو دے دیا ہے۔جیسے حضرت مریم کی والدہ نے فرمایا کہ اے اللہ ! میرے پیٹ میں تی جو بچہ ہے میں اُسے تیری راہ میں وقف کرتی ہوں 5۔لیکن جب بیٹی پیدا ہوئی تو اسے بھی خدا تعالیٰ کی کی راہ میں وقف کر دیا 6۔دوسری تقدیس اس وقت پیدا ہوئی جب خدا تعالیٰ نے اُسے قبول کر لیا 7۔پس پہلی نقد میں وقف کرنے سے ہوتی ہے اور دوسری تقدیس خدا تعالیٰ کے قبول کر لینے کی سے ہوتی ہے۔اور یہ دونوں چیزیں مل کر تقدیس کو پورا کر دیتی ہیں۔خدا تعالیٰ کی طرف سے تقدیس دو طرح سے ظاہر ہوتی ہے۔اول خدا تعالیٰ کی بتائی ہوئی خبروں سے دوم اُس کی تائید اور نصرت سے۔جب پہلی پیشگوئیوں اور خبروں میں یہ بات تھی۔کہ ایک ایسا مقام ہوگا جس کی طرف جماعت احمد یہ ہجرت کرے گی تو خدا تعالیٰ نے اس کی تقدیس کی خبر دے دی۔پھر خدا تعالیٰ کا عمل بھی اس کی تصدیق کر رہا ہے۔کتنے فتنے تھے جو جماعت کے خلاف اُٹھے اور پھر اُن فتنوں میں خدا تعالیٰ نے ربوہ کو کس طرح محفوظ رکھا۔اور جماعت کے کام میں برکت دی اور اسے خدمت کی توفیق بخشی۔خدا تعالیٰ کا یہ فعل بتاتا ہے کہ اُس نے جماعت کی قربانی کو قبول کر لیا۔اور اس مقام کو مقدس بنا دیا ہے۔پس تم سب کو بڑوں کو بھی اور چھوٹوں کو بھی ،