خطبات محمود (جلد 34) — Page 310
$1953 310 خطبات محمود اور ایک وزیر کے پاس کرسی پر بیٹھ کر اُس سے پوچھنے لگا کہ آخر ہوا کیا ہے جس کی وجہ سے تم سب لوگ رو ر ہے ہو؟ اُس وزیر نے کہا مجھے تو کوئی پتا نہیں۔میں نے اُس پاس والے وزیر کو روتے دیکھا تو میں نے بھی اپنی آنکھوں پر رومال رکھ لیا تا کہ مجھے بے وفا خیال نہ کر لیا جائے۔تب اُس کی نے ساتھ والے وزیر سے پوچھا کہ تمہارے رونے کا کیا سبب ہے؟ تو اُس نے بھی یہی کہا کہ مجھے علم نہیں میں نے ان سب کو روتے دیکھا تو آنکھ پر رومال رکھ لیا تا دیکھنے والے مجھے بے وفا نہ خیال کریں۔ورنہ میں رو نہیں رہا۔ہوتے ہوتے بات خاکروبہ تک جا پہنچی۔اُس سے دریافت کیا کہ تم کی کیوں رو رہی تھی ؟ تو اُس نے کہا محل میں تو کوئی واقعہ نہیں ہوا۔میں نے ایک سور کا بچہ پال رکھا تھا ت وہ مرگیا ہے۔میں دربار میں جھاڑو دے رہی تھی کہ مجھے وہ بچہ یاد آ گیا۔اُس بچہ سے مجھے بہت محبت تھی۔اس محبت کی وجہ سے میں رونے لگ گئی۔تو دیکھو! ما حول کا بھی ایک اثر ہوتا ہے۔یہ ہے تو ایک لطیفہ لیکن یہ ایک امر واقعہ ہے کہ ایک مجلس میں لوگ چاہے رونے کی مشق ہی کر رہے ہوں تم اُس مجلس میں آؤ گے تو لوگوں کو روتا ہے دیکھ کر خاموش ہو جاؤ گے۔اور ظاہری طور پر غم کی کیفیت پیدا کر لو گے۔پھر تسلی سے بیٹھ کر انہیں سمجھاؤ گے کہ صبر سے کام لینا چاہیے۔لیکن اگر وہ قہقہہ مار کر کہیں کہ ہم رونے کی مشق کر رہے تھے تو تم حیران ہو جاؤ گے۔تو ماحول انسان کو اپنی طرف کھینچ لیتا ہے۔اگر مسجد کا ماحول خراب ہوگا تو مسجد میں جانے والوں کی حالت بھی خراب ہو گی۔اگر مکہ میں رہنے والے اپنی توجہ کو دین کی طرف نہ لگائیں اور اپنے فارغ اوقات کو ذکر الہی میں خرچ نہ کریں تو خانہ کعبہ میں جا کر بھی وہ جذ بہ اور رقت پیدا نہیں ہوگی جو وہاں جا کر انسان کے اندر پیدا ہونی چاہیے۔اگر مدینہ والے اپنے فارغ اوقات کو ذکر الہی میں نہ لگائیں۔اور اپنے اوقات کو لغویات میں ضائع کریں تو لازمی بات ہے کہ مسجد نبوی میں جا کر بھی عبادت میں وہ لذت حاصل نہیں ہوگی جو ہونی چاہیے۔غرض انسان کا ماحول سے متاثر ہونا ضروری ہے۔روتا ہوا انسان فوراً ہنستا نہیں اور نہ ہنسنے والا فوراً روسکتا ہے۔لہو ولعب سے تقویٰ کی زندگی فوراً پیدا نہیں ہوتی۔نہ سنجیدہ حالت سے انسان فورا غیر سنجیدہ بن جاتا ہے۔پس جب اس مقام کو خدا تعالیٰ نے تمہارے لیے مقامِ ہجرت کے طور پر چنا ہے تو تم لوگوں پر فرض ہے کہ تم اپنے اوقات کو اس کے مطابق بناؤ۔پچھلے سالوں میں مسلمان کتنی آفتوں میں