خطبات محمود (جلد 34) — Page 304
$1953 304 خطبات محمود واقف تھے دیکھا کہ وہ حج بیت اللہ کر رہے ہیں۔اور انہیں عبادت میں اتنا خشوع وخضوع حاصل ہے کہ وہ دوسروں کے لیے نمونہ بنے ہوئے ہیں۔انہوں نے ان سے پوچھا کہ تمہاری حالت تو یہ تھی کہ تم ہر وقت لہو ولعب میں مشغول رہتے تھے اور خدا تعالیٰ کی طرف تمہیں توجہ پیدا ہی نہیں ہوتی تھی۔اب تم میں یہ خشوع و خضوع اور تقویٰ کیسے پیدا ہو گیا۔انہوں نے کہا میں ایک دن اپنے مکان پر بیٹھا تھا تھا۔دوسرے دوست بھی میرے ساتھ تھے۔مغنیات گانے کے لیے آئی ہوئی تھیں۔باجے گاجے پاس رکھے تھے۔گویا تعیش کے سب سامان موجود تھے۔اور قریب تھا کہ مجلس گرم ہوتی ہے کہ ایک شخص رستہ سے گزرا۔جب وہ میرے مکان کے نیچے پہنچا تو یہ آیت پڑھتا جارہا تھا کہ اَلَمْ يَأْنِ لِلَّذِينَ آمَنُوا أَن تَخْشَعَ قُلُوبُهُمْ لِذِكْرِ اللهِ 6- کیا مومنوں پر ابھی وہ گھڑی میں آئی کہ خدا تعالیٰ کا نام سن کر اُن کا دل ڈر جائے اس بزرگ نے کہا مجھے پتا نہیں اس شخص کی زبان میں کیا تاثیر تھی۔اس آیت کا میرے کانوں میں پڑنا تھا کہ میں نے آگے بڑھ کر باجے گاجے تو ڑی دیئے اور دوستوں کو باہر نکال دیا۔وضو کیا اور نماز پڑھی اور اللہ تعالیٰ سے اپنے گناہوں کے لیے ستغفار کیا اور اس کے بعد سب جائیدا دلٹا کر حج کے لیے روانہ ہو گیا۔۔اور اب ہجرت کر کے یہیں آ گیا ہوں۔دوسرے بزرگ کہتے ہیں مجھے تعجب ہوا کہ اللہ تعالیٰ کس طرح دلوں کو بدل دیتا ہے کہ عین مجلس تعیش میں ایک انسان جس نے شاید بطور تصنع بھی سادہ قرآن کریم نہ پڑھا ہو کسی کی زبان سے قرآن کریم کی ایک آیت سنتا ہے اور اس سے اُس کے دل کی کھڑ کی کھل جاتی ہے اور ی وہ اپنے گنا ہوں سے تو بہ کر لیتا ہے۔پس انسان پر مختلف اوقات آتے رہتے ہیں۔لیکن ان کے لانے کے لیے کوشش کرنی پڑتی ہے۔پس تم نماز ، روزہ ، ذکر الہی اور فکر کی عادت پیدا کرو۔انسان خدمت خلق کے ذریعہ دنیا میں امن قائم کرتا ہے تو نماز، روزہ اور ذکر الہی کے ساتھ اپنے دل میں امن پیدا کرتا ہے۔اور کامل امن اُسی وقت نصیب ہوتا ہے جب گھر میں بھی امن ہو اور باہر بھی امن ہو۔تم بھی خدا تعالیٰ کی کے سپاہیوں میں شامل ہو۔اس لیے تم یا درکھو کہ خدا تعالیٰ کے سپاہی لٹھ باز نہیں ہوتے۔خدا تعالیٰ کی کے سپاہی اپنی زبانوں کو اُس کے ذکر سے تر رکھنے والے ہوتے ہیں۔کہلاتے دونوں سپاہی ہی ہیں۔دنیا دار بھی اور دین دار بھی۔لیکن ایک سپاہی کا کام عجز وانکساری اور فروتنی ہوتا ہے اور