خطبات محمود (جلد 34)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 294 of 402

خطبات محمود (جلد 34) — Page 294

$1953 294 خطبات محمود وہ یہ تو کہہ دیں گے کہ ہم ایسا کر دیں گے لیکن وہ یہ نہیں بتا سکتے کہ ایسا کیوں ہو جائے گا۔کیونکہ علمی حصہ انہیں معلوم نہیں ہوتا۔اگر کسی یورپین صناع سے پوچھا جائے تو وہ نہ صرف کوئی کام کر دے گا بلکہ اُس کے ساتھ ہی وہ یہ بھی بتائے گا کہ ایسا کیوں ہو جائے گا۔ایک دفعہ میرے پاس ایک پرانے خاندانی معمار آئے انہوں نے کہا وہ ان لوگوں میں سے ہیں جنہوں نے شاہی قلعوں اور شاہی محلات میں فوارے بنائے تھے۔اور یہ کہ وہ ایسے ایسے فوارے لگا سکتے ہیں۔انہوں نے مجھے فواروں کی بڑی عجیب عجیب قسمیں بتا ئیں اور کہا اگر آپ چاہیں تو میں آپ کے باغ میں یا دار الحمد میں ایسے فوارے لگا دوں۔میں نے کہا ہمارے ہاں تو ی فواروں کا رواج نہیں ہاں علمی طور پر مجھے ان باتوں سے دلچسپی ہے۔میں علمی طور پر اس کے متعلق کی آپ سے بات کر لیتا ہوں۔جب میں نے اُن پر جرح کی تو انہوں نے کہا کہ مجھے یہ پتا نہیں کہ یہ کیسے ہو جاتا ہے لیکن میں اس قسم کا فوارا بنا سکتا ہوں۔میں نے کہا جب تک مجھے آپ یہ نہیں بتائیں گے کہ یہ کام کیسے ہو جاتا ہے مجھے تسلی نہیں ہو سکتی۔دوسرے کی تسلی کے لیے ضروری ہوتا ہے کہ یہ بھی بتایا جائے کہ فلاں کام کس طرح ہو جاتا ہے۔یورپین لوگوں کو دیکھ لو۔جب اُن سے کوئی بات ہے دریافت کی جاتی ہے تو سب سے پہلے وہ کالج کی سند نکال کر رکھ دیتے ہیں۔اور کہتے ہیں ہم اتنے ہی سال تک فلاں جگہ پڑھے ہیں اور فلاں سند ہمارے پاس ہے۔اس سے سننے والے کو تسلی ہو جاتی ہے کہ اُس نے جو کچھ پڑھا ہے اُس کی وجہ سے یہ اس لائق ہے کہ اس پر اعتبار کر لیا جائے۔بعض دفعہ وہ شخص نالائق بھی ہوتا ہے لیکن پانچ فیصدی ایسے کیس ہوں گے کہ وہ نالائق ہوگا۔پچانوے فیصدی ایسے ہوں گے کہ وہ لائق ہو گا۔بہر حال اتنا قیاس تو ہو سکتا ہے۔میں نے اُس معمار سے کہا تھا کہ تمہارے پاس علمی لحاظ سے کیا دلیل ہے کہ تم پر اس بارہ میں اعتماد کر لیا جائے ؟ انہوں نے کہا میرے باپ دادے ایسے تھے۔میں نے کہا مجھے اس سے کس طرح تسلی ہو سکتی ہے۔میں آپ کے باپ دادوں کو تو جانتا نہیں۔اُس نے کہا میں اتنا بتا سکتا ہوں کہ میں اس قسم کی چیزیں بنا سکتا ہوں۔غرض ہمارے ملک میں جتنے پیشے تھے وہ اب مٹتے جا رہے ہیں اور اس کی وجہ یہ ہے کہ آہستہ آہستہ علمی حصہ ہرفن کا گر گیا ہے اور صرف عملی حصہ باقی رہ گیا ہے۔اور چونکہ علمی حصہ باقی نہیں رہا اس لیے تعلیم یافتہ اور عقل مند لوگ ان پیشوں سے فائدہ اٹھانے سے گریز کرتے ہیں۔ایک جاہل تو تھی