خطبات محمود (جلد 34) — Page 257
$1953 257 خطبات محمود بات ہے جیسے اس وقت میرے سامنے ہزاروں آدمی بیٹھے ہیں اور میں انہیں دیکھ رہا ہوں لیکن گورنمنٹ کی طرف سے کہا جائے کہ تم کہو کہ میں ان آدمیوں کو نہیں دیکھ رہا۔بھلا اس سے زیادہ حماقت کی اور کیا بات ہوگی۔میں خدا تعالیٰ کو دیکھ رہا ہوں اور گورنمنٹ یہ کہے کہ تم کیوں کہتے ہو کہ ی میں خدا تعالیٰ کو دیکھ رہا ہوں۔جب وہ مجھے نظر آ رہا ہے تو میں یہی کہوں گا کہ وہ مجھے نظر آ رہا ہے۔اور جب مجھے دکھائی دے کہ وہ میری تائید کے لیے دوڑا چلا آ رہا ہے تو میں یہی کہوں گا کہ وہ میری تائید کے لیے دوڑا چلا آ رہا ہے۔اس پر اگر سیفٹی ایکٹ کے ماتحت مجھے نوٹس بھی دے دیا جائے تب بھی یہ محض ایک عارضی چیز ہے۔جب میرا خدا میری مدد کے لیے آئے گا تو سیفٹی ایکٹ آپ ہی آپ ختم ہو جائے گا۔کیونکہ اصل سیفٹی خدا تعالیٰ کی طرف سے آتی ہے۔بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ سیفٹی ایکٹ بنانے والے خود ہمارے خدا سے محفوظ نہیں ہیں اور وہ اس کے ایک اشارہ پر ختم ہو سکتے تھے ہیں۔پھر ہمیں خوف کس بات کا ہو سکتا ہے۔ایک بچہ جسے بھوک لگی ہوئی ہو وہ بے شک بھوک کی وجہ سے رونے لگ جائے گا لیکن اگر باورچی خانہ میں اس کی ماں پچھلکے پکا رہی ہو یا ہنڈ یا تیار کر رہی ہے ہو۔تو دیکھنے والا یہ کبھی نہیں کہہ سکے گا کہ وہ کچھ نہیں کر رہی۔اسی طرح جب ہمیں نظر آرہا ہو کہ خدا ہماری تائید کے لیے دوڑا چلا آرہا ہے، جب ہمیں نظر آرہا ہو کہ خدا ہمارے دشمنوں کو کبھی کامیاب نہیں ہونے دیتا ، جب ہمیں نظر آ رہا ہو کہ اللہ تعالیٰ کی قضاء ہمارے حق میں ہے۔تو خواہ کوئی مانے ی یا نہ مانے ، اقرار کرے یا انکار کرے، اچھا سمجھے یا بُرا منائے ، ہوگا وہی جس کا خدا نے ارادہ کیا ہے۔پس نماز کے متعلق رسول کریم ﷺ نے جو یہ فرمایا ہے کہ تم نماز کو اس واسطے ادا کرو کہ گویا تم خدا کو دیکھ رہے ہو۔اور اگر یہ مقام تمہیں حاصل نہیں تو تمہیں کم از کم یہ سمجھنا چاہیے کہ خدا تعالیٰ تمہیں دیکھ رہا ہے۔اس میں کسی وہم کی تعلیم نہیں دی گئی بلکہ بتایا گیا ہے کہ مومن کو اپنی نمازیں خدا تعالیٰ سے تعلق پیدا کرنے والی بنانی چاہیں اور اس رنگ میں ادا کرنی چاہئیں کہ خدا تعالی کا اُس سے اس قسم کا تعلق ہو جائے کہ خدا اُس کے لیے نشان دکھانے لگ جائے اور وہ بھی سمجھ جائے کہ خدا اس کی تائید کے لیے نشان دکھا رہا ہے۔جب یہ مقام کسی شخص کو حاصل ہو جاتا ہے تو دنیا کی بڑی سے بڑی مخالفت بھی اسے مرعوب نہیں کر سکتی۔وہ ایک مضبوط چٹان کی طرح