خطبات محمود (جلد 34)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 258 of 402

خطبات محمود (جلد 34) — Page 258

$1953 258 خطبات محمود دشمنوں کے نرغہ میں کھڑا رہتا ہے اور سلامتی کے ساتھ اُن کی جلائی ہوئی آگ میں سے نکل آتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر جن دنوں گورداسپور میں کرم دین نے مقدمہ کیا ہوا تھا۔خواجہ کمال الدین صاحب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے پاس گھبرائے ہوئے آئے اور انہوں نے کہا کہ آریوں نے مجسٹریٹ پر زور دے کر اُس سے وعدہ لے لیا ہے کہ وہ حضور کوضر سزا دے گا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جب یہ سنا تو آپ نے فرمایا خواجہ صاحب ! آپ کیسی باتیں کرتے ہیں کس میں طاقت ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کے شیر پر ہاتھ ڈال سکے۔اب خواجہ صاحب کو تو نظر نہیں آتا تھا لیکن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو دکھائی دے رہا تھا کہ خدا آپ کی تائید میں کھڑا ہے اس لیے دشمن آپ کو سزا دلانے کے ارادہ میں کامیاب نہیں ہوسکتا۔پھر وہی مجسٹریٹ جس نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو سزا دینے کا ارادہ کیا تھا اُسے خدا نے اِس قدر آفات اور مصائب میں مبتلا کیا کہ میں ایک دفعہ دتی سے آرہا تھا کہ لدھیانہ اسٹیشن پر وہ خود چل کر میرے پاس آیا اور اس نے کہا کہ میں جو کچھ غلطی کر چکا ہوں اس کی سزائیں مجھے اب تک مل رہی ہیں۔آپ خدا کے لیے میرا قصور معاف ہونے کے لیے دعا کریں۔میں سخت نادم اور پشیمان ہوں۔غرض رسول کریم ﷺ کا یہ فرمانا کہ مومن عبادت کرتے وقت یہ سمجھتا ہے کہ وہ خدا کو دیکھتے رہا ہے اس کے یہ معنی نہیں کہ وہ خدا تعالیٰ کو ایک بت سمجھتا ہے اور اس کا تصور اپنے ذہن میں لانے کی کوشش کرتا ہے۔بلکہ اس کے معنی یہ ہیں کہ اُسے اپنی آنکھوں سے دکھائی دیتا ہے کہ خدا اُس کی تائید میں اپنے نشانات ظاہر کر رہا ہے، خدا اُس کی تائید کرنے والوں کی تائید کرتا ہے ، خدا اُس کی مخالفت کرنے والوں کی مخالفت کرتا ہے، خدا اس کے دشمنوں کو ہلاک کرتا اور اس کے دوستوں کو ترقی دیتا ہے۔اور یہی مقام ہے جو ہر مومن کو حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ورنہ کی رسول کریم ﷺ کی ہرگز یہ مراد نہیں کہ تم نماز میں خدا تعالیٰ کی تصویر بنانے کی کوشش کرو اور اس کا جھوٹا تصور اپنے ذہن میں لاؤ۔اسلام مومن کے دل میں کوئی جھوٹا تصور پیدا نہیں کرتا بلکہ وہ عملاً سے ایسے مقام پر پہنچاتا ہے کہ صفاتِ الہیہ کا ظہور اس کے لیے شروع ہو جاتا ہے۔اور خدا اس کے لیے زمین و آسمان میں بڑے بڑے نشانات دکھا نا شروع کر دیتا ہے۔اور خود اُسے بھی و روحانی آنکھیں میسر آجاتی ہیں جن سے وہ خدا تعالیٰ کے چمکتے ہوئے ہاتھ کا مشاہدہ کر لیتا ہے۔وہ