خطبات محمود (جلد 34)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 13 of 402

خطبات محمود (جلد 34) — Page 13

$1953 13 خطبات محمود کہہ رہے ہیں لیکن اُس وقت وہ بوریا بستر باندھ کر یہاں سے چلے جائیں گے۔حضرت مسیح علیہ السلام نے اپنے حواریوں سے یہ بات کہی تو انہیں بہت بُری لگی۔اور انہوں نے کہا استاد! ہم تو آپ کے لیے ہر قسم کی قربانی کرنے کے لیے تیار ہیں۔اس لیے آپ ایسا کیوں کہتے ہیں کہ ہم بھاگ جائیں گے۔حضرت مسیح علیہ السلام نے فرمایا ایک شخص جو اس وقت میرے پیالہ میں کھانا کھا رہا ہے اور اس کا ہاتھ میرے ہاتھ سے بعض دفعہ چھو جاتا ہے وہ شام تک مجھے پکڑ وادے گا1۔اس وقت تین آدمی تھے جن میں سے ایک نکل گیا دو باقی رہ گئے۔پطرس نے کہا اے استاد! کیا یہ ہو سکتا ہے کہ ہم آپ کو چھوڑ دیں۔ہمیں تو آپ ہمارے مال و جان سے بھی زیادہ پیارے ہیں۔حضرت مسیح علیہ السلام نے کہا اے پطرس ! صبح مرغ اُس وقت تک اذان نہیں دے گا جب تک کہ تو مجھ پر تین دفعہ لعنت نہ ڈال لے 2ے۔پس ایسی کمزور طبائع بے شک ہوتی ہیں۔صرف موجودہ اخلاص اور موجودہ حالت کو نہیں دیکھا جاتا۔آج اگر کوئی شخص مخلص ہوتا ہے تو پرسوں کو وہ بھاگ جاتا ہے۔کیا تم نے نہیں دیکھا کہ تم میں سے درجنوں نوجوان جنہوں نے اپنی زندگیاں وقف کی تھیں آج بھاگے ہوئے ہیں؟ بعض نوجوانوں نے تو شرافت سے نکلنے کی کوشش کی لیکن بعض مختلف قسم کے بہانے بنا بنا کر اور گندا چھال کر بھاگے ہیں۔پس چونکہ اس وقت خطرات زیادہ ہیں اس لیے ہمیں اپنی سکیمیں بدل لینی چاہیں۔پہلی چیز تو یہ ہے کہ ہمیں ہمیشہ یہ خیال رکھنا چاہیے کہ ہمارا وقت ضائع نہ ہو۔کل پرسوں سے میں نے سوچنا شروع کیا ہے کہ جلسہ کے بعد اب دوسرا جمعہ آ گیا ہے۔گویا اگلے پروگرام میں سے اب بارہ دن گزر گئے ہیں۔اگر ہم اب بھی نہیں سمجھے اور ایک اور بارہ دن گزر گئے ، پھر ایک اور بارہ دن گزر گئے ، پھر ایک اور بارہ دن گزر گئے تو ہم کو یہ چیز اپنے ارادہ سے اس قدر دور کر دے گی کہ ہمارا جوش پھیکا پڑ جائے گا۔پھر جوش ٹھنڈے ہو گئے تو ہم کہیں گے چلو یہ سال تو گزر گیا ہم اب نئے سال سے کام کریں گے اور ہماری ہر کوشش باطل اور بیکار جائے گی۔میری آج مسجد میں جمعہ کے لیے آنے کی بڑی وجہ یہی ہے تھی کہ میں جماعت کو اس طرف توجہ دلاؤں کہ نئے سال کے بارہ دن گزر گئے ہیں اور ہمارا یا پروگرام کے بارہ دن پیچھے جا پڑا ہے۔جلسہ سالانہ کے ایام میں آپ نے قربانیاں کیں، پہرے دیئے، محنت کی، تکالیف اٹھا ئیں، کئی لوگوں نے لوٹ مار بھی کی جیسا کہ میرے پاس بعض رپورٹیں آئی ہیں۔لیکن اکثر لوگوں نے قربانی کا اعلیٰ نمونہ دکھایا۔باہر سے آنے والوں نے تو اس حد تک قربانی کا نمونہ دکھایا کہ