خطبات محمود (جلد 34)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 222 of 402

خطبات محمود (جلد 34) — Page 222

$1953 222 خطبات محمود نہیں گیا انہی کے پاس رہنے لگ گیا۔مگر مجھے دین کا اب تک کچھ پتا نہیں ، مجھے کوئی دلیل نہیں آتی۔مولوی صاحب نے پھر اُس پر زور دیا کہ آخر تم ایک اسلام کے دشمن کے پاس کیوں ٹھہرے ہو۔ہو۔آخر تنگ آکر پیرے نے کہا کہ مولوی صاحب ! میں اور تو کچھ جانتا نہیں لیکن میری آنکھیں ہیں اور میں نے ایک بات خوب اچھی طرح دیکھی ہے۔اور وہ یہ کہہ آپ روزانہ اسٹیشن پر آتے ہیں اور جو لوگ قادیان جانے کے لیے یہاں اترتے ہیں آپ اُن سے ملتے ہیں اور انہیں ورغلانے کی تی کوشش کرتے ہیں۔اور کہتے ہیں دیکھنا ! مرزا صاحب کے پاس نہ جانا وہ بڑے گندے اور فریبی ہے انسان ہیں۔اگر تم وہاں گئے تو تمہارا ایمان خراب ہو جائے گا۔یہ طریق آپ نے مدتوں سے اختیار کر رکھا ہے۔آپ روزانہ اسٹیشن پر آتے ہیں اور اُن آدمیوں کی تلاش کرتے ہیں جو قادیانی جانے والے ہوتے ہیں۔اور شاید آپ کی اب تک کئی جوتیاں اس کوشش میں گھس گئی ہوں گی۔لیکن لوگ آپ کی بات پھر بھی نہیں مانتے۔دوسری طرف میں دیکھتا ہوں کہ مرزا صاحب اپنے گھر میں بیٹھے رہتے ہیں اور لوگ ان سے ملنے کے لیے گھنٹوں اُن کے دروازہ پر انتظار کرتے رہتے ہیں اور وہ اس انتظار میں ایک خوشی اور لذت محسوس کرتے ہیں۔آخر کوئی تو بات ہے کہ باوجود اس کے کہ وہاں نہ ریل جاتی ہے اور نہ پختہ سڑک جاتی ہے پھر بھی لوگ مرزا صاحب کی طرف دوڑے چلے جاتے ہیں۔اور وہ کسی تکلیف کی پروا نہیں کرتے۔اب دیکھو ! وہ ایک جاہل آدمی تھا ، ان پڑھ تھا لیکن اس دلیل کو وہ بھی سمجھتا تھا کہ خدا لوگوں کو پکڑ پکڑ کر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دروازے پر لا رہا ہے۔اور جس کے آگے خدا لوگوں کو خود کھینچ کر لے آئے اُس کی طرف آنے سے کسی کو کون روک سکتا ہے۔پس تم اپنے عمل سے اپنے آپ کو ایسا بناؤ کہ دنیا تمہارے پیچھے چلنے پر مجبور ہو۔دنیا تم سے محبت کرنے پر مجبور ہو۔دنیا تمہارے سایہ عاطفت میں پناہ لینے پر مجبور ہو۔جس طرح اگر کسی جنگل میں سے لوگ گزر رہے ہوں اور اُس جنگل میں کوئی خطر ناک شیر رہتا ہو تو لوگ سمٹ کر کسی زبر دست شکاری کی پناہ میں چلے جاتے ہیں۔اسی طرح دنیا سمجھ لے کہ ہر جگہ آفتیں اور مصیبتیں نازل ہوتی ہیں مگر جہاں تم کھڑے ہو وہاں کوئی مصیبت آسمان سے نازل نہیں ہوتی۔اگر تم ایسا مقام حاصل کر لو تو دنیا تمہاری طرف آنے پر خود بخود مجبور ہو جائے گی۔اگر کسی جگہ آگ کی بارش