خطبات محمود (جلد 34) — Page 204
$1953 204 خطبات محمود میرے ٹھہرنے کے لیے جو جگہ بنائی گئی وہ ایک درخت کے نیچے تھی۔گھاس پھونس کی چھت ڈال کر ایک جھونپڑا سا بنالیا گیا تھا جس میں میں نے رہائش اختیار کی۔مگر اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے دیکھتے ہی دیکھتے ہماری حالت بدل دی اور مکان بھی بن گئے اور احمدی مزار عین بھی آگئے۔مگر یہ دولت کی اور زمین اُسی وقت مفید ہو سکتے ہیں اور یہ احمدی اُسی وقت بابرکت ہو سکتے ہیں جب یہ سب کچھ خدا تعالیٰ کے کام آئے۔صرف ہمارے کام آنا ہمارے لیے کسی خوشی کا موجب نہیں ہو سکتا۔یوں تو ہے عیسائیوں کے پاس بھی بڑی جائیدادیں ہیں، ہندؤوں کے پاس بھی بڑی جائیداد میں ہیں، یہودیوں کے پاس بھی بڑی جائیدادیں ہیں اور اسی طرح اور کئی قوموں کے پاس بھی بڑی جائیدادیں ہیں۔اگر اسی رنگ میں ہمارے پاس بھی کچھ جائیدادیں ہو جائیں تو یہ ہمارے لیے کسی فخر کا موجب نہیں ہوسکتیں۔ہماری جائیدادیں ہمارے لیے تبھی فخر کا موجب ہو سکتی ہیں اور تبھی ہم ان کے ملنے پر خوشی محسوس کر سکتے ہیں جب وہ خدا کے کام آئیں۔اور خدا تعالیٰ کے کام ہمارے اموال اور ہماری جائیدادیں اسی رنگ میں آسکتی ہیں جب ہم لوگوں کے دلوں کو خدا تعالیٰ کی طرف مائل کر سکیں ، ان کے کینہ اور بغض کو دور کر سکیں اور وہ خود ہم سے حقیقت حال معلوم کرنے کی کوشش کریں۔اور جب وہ ہمارے قریب آئیں تو ہمارے عملی نمونہ کو دیکھ کر ان کے دل بالکل صاف ہو جا ئیں۔بغض ان کے دلوں سے نکل جائے اور وہ صداقت کو قبول کرنے کے لیے تیار ہو جائیں۔پھر یہاں کی زمین اس طرح بھی خدا کے کام آسکتی ہے کہ یہ زمین ہمیں اتنا نفع دینے لگے کہ اس کی آمد سے ہم بیرونی ممالک میں اور زیادہ تبلیغی مشن قائم کر دیں۔ہمارے بیسیوں مشن عیسائی ممالک میں ہوں، بیسیوں مشن ہندوستان میں ہوں ، بیسیوں مشن سکھوں میں کام کر ر۔ہوں ، بیسیوں مشن چینیوں میں کام کر رہے ہوں، بیسیوں مشن جاپانیوں میں کام کر رہے ہوں۔غرض تمام دنیا میں اشاعت اسلام ہو رہی ہو اور ہر جگہ محمد رسول اللہ اللہ کا نام بلند کیا جا رہا ہو۔مگر ابھی یہ زمینیں ہمیں اتنا نفع نہیں دے رہیں۔بلکہ حقیقت یہ ہے کہ پنجاب سے دسواں حصہ کم روپیہ یہ زمینیں ہمیں دے رہی ہیں۔پنجاب میں ایک مربع عام طور پر اڑھائی ہزار روپیہ سالا نہ ٹھیکے چڑھتا ہے۔ہمارے ایک دوست ہیں جن کے سات مربعے ہیں اور وہ سات مربعے اکیس ہزار