خطبات محمود (جلد 34)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 185 of 402

خطبات محمود (جلد 34) — Page 185

$1953 185 خطبات محمود کے مسلمان بھی رسول کریم اللہ پر ایمان رکھتے ہیں۔جہاں تک زبان کا سوال ہے۔وہ بھی لا الہ الا اللہ سے بڑھ کر کچھ نہیں کہتے تھے اور آجکل کے مسلمان بھی لا إِلهَ إِلَّا الله سے کچھ کم نہیں کہتے۔مگر باوجود اس کے ان کو لا إِلهَ إِلَّا الله و نے جس مقام پر پہنچا دیا تھا۔اس مقام پر آجکل کا مسلمان لَا إِلَهَ إِلَّا اللہ کہہ کر نہیں پہنچا۔اس کے یہ معنی نہیں کہ لَا اِلهَ إِلَّا اللہ میں کوئی نقص ہے۔یہ لَا إِلهَ إِلَّا الله کا نقص نہیں بلکہ اس سنجیدگی کا نقص ہے جو مسلمانوں میں مفقود ہو چکی ہے۔وہ لَا إِلَهَ إِلَّا اللہ کہتے ہیں مگر سنجیدگی : سے اس پر ایمان لانے اور ہر چیز پر لا الہ الا اللہ کو مقدم کرنے کے لیے تیار نہیں۔بلکہ حقیقت کی تو یہ ہے کہ وہ ہر دوسری چیز کو لا الہ الا اللہ پر مقدم کرنے کے لیے تیار ہو جاتے ہیں۔وہ ذاتی فوائد کے حصول کے لیے اپنا ایمان بیچنے کے لیے تیار ہو جاتے ہیں۔وہ اپنے اخلاق بیچنے کی کے لیے تیار ہو جاتے ہیں۔وہ اپنی دیانت بیچنے کے لیے تیار ہو جاتے ہیں۔وہ اپنا حسب ونسب بیچنے کے لیے تیار ہو جاتے ہیں۔وہ اپنے عزیز ترین وجود بیچنے کے لیے تیار ہو جاتے ہیں۔بلکہ اپنی قوم اور اپنی ملت بیچنے کے لیے تیار ہو جاتے ہیں۔غرض ذاتی طور پر انہیں جو فوائد بھی کی نظر آتے ہوں اُن کے لیے وہ اپنی ہر چیز بیچنے کے لیے تیار ہو جاتے ہیں۔جس کے معنی یہ ہیں کہ وہ لا إِلهَ إِلَّا الله پر سنجیدگی سے ایمان نہیں رکھتے۔وہ عقیدةُ لَا إِلَهَ إِلَّا الله کے قائل ہیں اور اُسے مانتے ہیں۔مگر محض ماننے سے کوئی فائدہ نہیں ہو سکتا جب تک انسان اپنی عملی زندگی بھی اُس کا کے مطابق ڈھالنے کے لیے تیار نہ ہو۔آج کل ایک طرف تو احرار کی طرف سے یہ شور مچایا جاتا ہے کہ جو احمدی ہوا سے مار دو اور لُوٹ لو اور دنگا اور فساد کرو۔اور دوسری طرف انہی لوگوں میں سے بعض کی طرف سے مہینہ میں ایک دفعہ ، بعض دفعہ ہر پندرھویں دن اور بعض دفعہ ہر ہفتہ بلکہ بعض دنوں میں دو دو تین تین خط مجھے اس قسم کے آجاتے ہیں کہ ہم احمدی ہونے کے لیے تیار ہیں آپ ہمیں یہ کی بتائیں کہ اگر ہم احمدی ہو گئے تو آپ ہمیں کیا دیں گے۔گویا دوسرے لفظوں میں وہ یہ کہتے ہیں کہ ہم اپنے عقیدہ کو چند پیسوں پر بیچنا چاہتے ہیں۔اس قسم کے خط لکھنے والے بعض دفعہ اچھے چھے خاندانوں میں سے ہوتے ہیں بعض دفعہ وہ علماء کی اولاد میں سے ہوتے ہیں اور بعض دفعہ