خطبات محمود (جلد 34)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 180 of 402

خطبات محمود (جلد 34) — Page 180

خطبات محمود 180 $1953 یورپ میں اسلام کا بہترین اشتہار مسجد ہے۔بلکہ عیسائی ممالک کے لیے ہی نہیں ہندو ممالک کے لیے بھی اور چینی ممالک کے لیے بھی اور جاپانی ممالک کے لیے بھی مسجد ایک عجو ہے۔جس طرح لوگ پرانے مقابر اور محلات دیکھنے کے لیے جاتے ہیں اُسی طرح وہ مسجد دیکھنے کے لیے جاتے ہیں۔اور جب وہ جاتے ہیں تو ان کا امام سے تعلق ہو جاتا ہے اور تبلیغ اسلام کا رستہ کھل جاتا ہے۔جب تک ہماری جماعت اپنے اس فرض کو نہیں سمجھتی اس وقت تک اس کا یہ امید کر لینا کہ وہ اسلام کو دنیا پر غالب کرنے میں کامیاب ہو جائے گی غلط ہے۔اس کی مثال بالکل ایسی ہی ای ہوگی جیسے چھپکلی کی دُم کاٹ دی جائے تو وہ دُم تھوڑی دیر کے لیے تڑپ لیتی ہے لیکن پھر ہمیشہ کے لیے ختم ہو جاتی ہے۔ہمیں سوچنا چاہیے کہ آیا ہماری غرض صرف اتنی ہی تھی کہ ہم دنیا میں شور مچال دیں؟ اور اگر یہی ہماری غرض تھی تو یہ کام ہم نے کر لیا ہے۔اب ہمیں کسی مزید کام کی ضرورت نہیں۔اور یا پھر ہماری غرض یہ تھی کہ ہم دنیا میں اسلام پھیلائیں۔اور اگر یہی ہماری غرض ہے تو اس کے لیے متواتر قربانیوں اور جد و جہد اور نیک نمونہ کی ضرورت ہے۔اور ہماری تبلیغ تبھی کامیاب ہوسکتی ہے جب ہمارا عملی نمونہ اسلامی تعلیم کے مطابق ہو۔اگر ہمارے اندر دیانت پائی جاتی ہے، اگر ہمارے اندر سچائی پائی جاتی ہے۔اگر ہمارے اندر نیک چال چلن پایا جاتا ہے اگر ہمارے اندر معاملات کی صفائی پائی جاتی ہے تو ہر شخص جو ہمیں دیکھے گا وہ سمجھے گا کہ اس جماعت کے ساتھ مل کر دین کی خدمت کی جاسکتی ہے ہے۔لیکن اگر ہمارا نمونہ اچھا نہیں تو وہ کہے گا کہ " دُور کے ڈھول سہانے"۔باتیں تو ہم بڑی سنتے تھے لیکن پاس آکر دیکھا تو ہمیں معلوم ہوا کہ اس کا پھل ایسا میٹھا نہیں۔پس اپنی ذمہ داریوں کو سمجھو اور چندہ مساجد کی تحریک میں حصہ لو۔اگر ہماری جماعت کے تمام دوست اس چندے میں حصہ لینا شروع کر دیں تو ہر سال کی ایک خاص رقم اس غرض کے لیے جمع ہو سکتی ہے۔مگر میں دیکھتا ہوں کہ جہاں پاکستان کی اور سب جماعتوں میں اپنی ذمہ داری کا احساس ہے وہاں اس جگہ ہر شخص اپنے آپ کو چودھری سمجھتا ہے اور وہ خیال کرتا ہے کہ یہ تحریکات دوسروں کے لیے ہیں اس کے لیے نہیں۔اب میں اس سفر میں دیکھوں گا کہ یہاں کی جماعتوں نے اس چندہ میں کس حد تک حصہ لیا ہے۔اسٹیٹیوں کے دورہ کے وقت مالکان زمین کے متعلق بھی یہ دیکھا جائے گا کہ انہوں نے اس تحریک میں کتنا حصہ لیا ہے اور ی