خطبات محمود (جلد 34)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 8 of 402

خطبات محمود (جلد 34) — Page 8

$1953 8 خطبات محمود لیکن تم لوگ چودھراہٹ سنبھال لیتے ہو۔تم خدا کے نام سے عہدے لے لیتے ہو۔اور پھر اُسی کی دشمنی کرتے ہو۔جماعت کی تربیت کا طریق یہی ہے کہ پہلے محبت سے سمجھایا جائے۔اور اگر کوئی محبت سے نہ سمجھے تو اس پر سختی کی جائے اور اسے باہر نکال دیا جائے۔چونکہ ایک عرصہ تک خدا تعالیٰ بھی تو بہ کو قبول کرتا ہے اس لیے اگر کوئی شخص تو بہ کرے تو تمہیں بھی اُس کی تو بہ مان لینی چاہیے۔لیکن اُس سے تو بہ ضرور کرانی چاہیے، بے تو بہ نہیں چھوڑ نا چاہیے۔پس اگر کوئی شخص تو بہ کرتا ہے تو اُس کی کی تو بہ مان لو۔لیکن اُس سے لکھوا لو کہ میں آئندہ ایسی غلطی نہیں کروں گا۔اور اگر وہ دوبارہ یہی غلطی کی کرتا ہے اور تو بہ کرتا ہے تو اُس کی تو بہ مان لو۔لیکن اگر وہ تیسری بار وہی غلطی کرتا ہے تو اُسے کہو خدا تعالیٰ تو بے انتہا تو یہ قبول کرنے والا ہے لیکن ہم انسان ہیں۔تم نے دودفعہ غلطی کی اور پھر تو بہ کی تو ہم نے تمہاری تو بہ مان لی۔لیکن چونکہ تم غلطی کرنے کے عادی ہو اس لیے ہم آئندہ تمہاری تو بہ نہیں مانیں گے۔تمہارا معاملہ خدا تعالیٰ کے ساتھ ہے۔اس طرح لوگ اپنی اصلاح کریں گے۔پھر مجرموں کو یہ بھی عادت پڑی ہے کہ اُن کی جُرم کرنے کی عادت کوٹ آتی ہے۔گورنمنٹ ایسے لوگوں کے نام لکھ لیتی ہے تاوہ دیکھیں کہ انہیں اس مرض کا دوبارہ دورہ تو نہیں ہوتا۔اگر انہیں اس مرض کا دوبارہ دورہ ہو جائے تو وہ دوبارہ ان کی اصلاح کی کوشش کرتے ہیں۔اس طرح وہ اپنی اصلاح کر لیتے ہیں۔یہاں تک کہ بعض تو بہ کرنے والے ایسے بھی ہوتے ہیں جو غیر مجرموں سے نیکی میں بڑھ جاتے ہیں۔صحابہ شمارے کے سارے تائب تھے۔تم اُن کا ایمان دیکھو اور پھر اُن لوگوں کا ایمان دیکھو جو مسلمانوں کے گھروں میں پیدا ہو کر مسلمان کہلائے تو تمہیں معلوم ہو جائے گا کہ تائب ، غیر مجرموں سے ایمان میں زیادہ تھے۔کیونکہ غیر مجرموں کا ایمان نسبی تھا اور تائب ہونے والوں کا ایمان کسی تھا۔یہی طریق خدا تعالیٰ سے محبت پیدا کرانے کا ہے۔پہلے لوگوں کو ی شرمندہ کیا جائے کہ چند پیسوں کی خاطر تم خدا تعالیٰ کو چھوڑ رہے ہو اور اگر وہ محبت کے ساتھ سمجھانے کی کے بعد بھی اپنی اصلاح نہیں کرتے تو اُن پر سختی کی جائے۔خالی پکڑ دھکڑ جاری ہو جائے تو کبھی تزکیہ نفس کی طرف توجہ نہیں ہوگی۔لیکن اگر پہلے محبت سے سمجھایا جائے اور اگر پھر بھی ضرورت ہو تو ی سختی کی جائے تو اعمال اور خیالات دونوں درست ہو جائیں گے۔یہ چار پانچ چیزیں ہیں جن کی