خطبات محمود (جلد 34) — Page 9
$1953 9 خطبات محمود طرف 1953ء میں ہم نے خصوصیت کے ساتھ توجہ کرنی ہے۔پھر ان سب سے مقدم تبلیغ ہے۔حکومت نے اب اعلان کیا ہے کہ کوئی ملازم تبلیغ کرے۔اس لیے اب تم ہر ایک افسر کے پاس جاؤ اور اُسے تبلیغ کرو۔پہلے تو تمہیں یہ شبہ تھا کہ شاید تمہارے ملازم بھائی نے اُسے تبلیغ کی ہو۔لیکن اب تو گورنمنٹ نے یہ اعلان کر دیا ہے کہ ملازم اپنے نائب یا تعلق رکھنے والے کو تبلیغ نہ کرے۔اب تم غیر ملازم افسروں اور دوسرے کارکنوں کو اتنی تبلیغ کرو کہ وہ لوگ گورنمنٹ کی منتیں کریں کہ یہ لوگ ہمارا پیچھا نہیں چھوڑتے تم اس قانون کو کہ کوئی ملازم اپنے سے تعلق رکھنے والے لوگوں میں خیالات کی اشاعت نہ کرے، واپس لے لو۔جہاں تک اثر کا تعلق ہے صاحب اثر لوگوں کو اس سے فائدہ اٹھانا چاہیے اور ہر شخص کو تبلیغ کرنی اثر چاہیے۔اب تو یہ ہورہا ہے کہ ایک احمدی دوست پر اس لیے مقدمہ چلایا جا رہا ہے کہ اس نے اپنے افسر سے ایک احمدی مبلغ کو ملایا ہے حالانکہ چاہیے یہ تھا کہ بجائے اس ماتحت پر مقدمہ چلانے کے کی اس زنخ 1 افسر پر مقدمہ چلایا جاتا کہ وہ افسر ہوتے ہوئے اپنے ماتحت سے کیوں دب گیا۔قانون تو یہ تھا کہ افسر اپنے ماتحت پر نا جائز دباؤ ڈال کر اپنے خیالات کی تبلیغ نہ کرے۔اب اگر کوئی افسر ماتحت کا دباؤ قبول کرتا ہے تو وہ افسر اس قابل ہی نہیں کہ اُسے افسر رہنے دیا جائے۔گورنمنٹ کو چاہیے کہ وہ ایسے زنے افسر کو فوراً باہر نکال دے۔ایسا ز نخا افسر جو اپنے ماتحت کے ناجائز دباؤ کو قبول کرتا ہے وہ افسر کس بات کا ہے۔پس بجائے اس کے کہ اُس کے ماتحت پر مقدمہ چلایا جاتا اس افسر پر مقدمہ چلانا چاہیے تھا۔بہر حال یہ چیز نا جائز ہے۔اس کی اصلاح کا طریق یہ ہے کہ پہلے تو شاید اس ایک کارکن کو تبلیغ کا موقع ملتا تھا یا نہیں اب تم چار چار اس افسر کے پاس جاؤ۔اسی طرح اپنے رشتہ داروں کو بھی تبلیغ کرو۔میں دیکھتا ہوں کہ جماعت کے دوستوں میں یہ کمزوری پائی جاتی ہے کہ وہ اپنے رشتہ داروں کو تبلیغ نہیں کرتے۔وہ ان پر اتناد باؤ نہیں ڈالتے جتنا ڈالنا چاہیے۔میں نے ایک دفعہ اس پر خاص زور دیا اور بعض احمدیوں نے ایسا کیا۔چنانچہ ایک احمدی دوست نے بتایا کہ میں ایک دن اپنے ایک رشتہ دار کے گھر میں بیٹھ گیا اور اُسے کہا یا تو ی تم مجھے اپنا ہم خیال بنالو اور یا تم احمدی بن جاؤ۔نتیجہ یہ ہوا کہ میرے دلائل چونکہ معقول تھے وہ اس پر اثر کر گئے اور وہ احمدی ہو گیا۔حقیقت یہ ہے کہ اگر کوئی شخص ہمیں یہ سمجھا دے کہ ہم غلطی پر ہیں تو ی