خطبات محمود (جلد 34)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 133 of 402

خطبات محمود (جلد 34) — Page 133

$1953 133 خطبات محمود میں زیادہ پایا جاتا ہے۔اسی طرح تم اسلام کے دوسرے فرقوں کے سامنے یہ چیز پیش نہیں کر سکتے کہ ہم خدا، اس کے رسول اور قرآن کریم پر ایمان رکھتے ہیں۔کیونکہ ان چیزوں پر دوسرے مسلمان بھی یقین رکھتے ہیں۔ہاں تم اُن کے سامنے یہ چیز پیش کر سکتے ہو کہ تم نے اسلام کی تعلیم کو ترک کر دیا ہے لیکن ہم اس پر عمل کرتے ہیں، ہم سارے کے سارے نمازیں پڑھتے ہیں، جن پر حج فرض ہے وہ حج کرتے ہی ہیں، جنہیں روزہ رکھنا منع نہیں وہ روزہ رکھتے ہیں۔پھر ہم قرآن کریم کی دوسری تعلیموں پر بھی عمل کرتے ہیں لیکن تم لوگ عمل نہیں کرتے۔اگر تم یہ چیز پیش کرو تو دوسرے مسلمان چُپ ہو جائیں گے۔پس سب سے واضح تعلیم جس کو ساری دنیا مانتی ہے وہ اخلاق کی تعلیم ہے۔پھر اس سے اتر کر دوسری باتیں ہیں۔پس ایک مسلمان کو تم کہہ سکتے ہو کہ ہم تم سے زیادہ شریعت پر عمل کرتے ہیں اور اگر تم واقع میں ایسا کرتے ہو تو دوسرے لوگ اس سے ضرور متاثر ہوں گے۔اور متاثر ہوتے بھی ہیں۔چنانچہ جہاں بھی ایسے احمدی پائے جاتے ہیں جو اچھا نمونہ دکھا رہے ہیں وہاں دوسرے لوگ یہی کہتے ہیں کہ ہم تھی مانتے ہیں کہ آپ لوگ شریعت پر ہم سے زیادہ عمل کرتے ہیں۔اس پر ہم انہیں پکڑ لیتے ہیں کہ اگر ہم لوگ شریعت کے احکام پر تم سے زیادہ عمل کرتے ہیں تو ہم کا فرکس طرح ہوئے۔پس میں جماعت کو عموماً اور بوہ کے رہنے والوں کو خصوصاً اس امر کی طرف توجہ دلاتا ہوں کہ تم اپنے اعمال سے یہ بات واضح کرو کہ تم سچے مومن ہو۔اگر تم ایسا کرو اور تمہاری مسجد میں اور تمہارے بازار اس بات پر شاہد ہوں کہ تم نمازوں میں زیادہ پختہ ہو تم غرباء کی خبر گیری کرتے ہو، تم ہمیشہ سچ بولتے ہو، تمہاری زبان عیب چینی نہیں کرتی تم ظلم و تعدی نہیں کرتے تو ہر شخص ہے اقرار کرے گا کہ مرزا صاحب نے عظیم الشان کام کیا ہے۔اُس سے کسی لمبی بحث کی ضرورت نہیں ہوگی۔لیکن اگر تم کہو گے کہ حضرت عیسی علیہ السلام وفات پاگئے ہیں تو ہے تو یہ کچی بات اور دوسرے مسلمانوں کا عقیدہ غلط ہے لیکن تمہیں ایک لمبی بحث کے بعد انہیں یہ بات منوانی پڑے گی کہ اس بات کا ماننا اسلام کے لیے مضر ہے۔تمہارا مخاطب شروع میں یہ کہہ دے گا کہ حضرت مسیح علیہ السلام زندہ ہیں یا وفات یافتہ ، اس میں کیا رکھا ہے؟ لیکن اگر تم یہ کہو کہ تم مسلمانوں نے نمازیں چھوڑ دیں تھیں حضرت مرزا صاحب نے ہم سے نمازیں پڑھوانی شروع کر دیں تم لوگوں نے زکوۃ دینی ترک کر دی تھی حضرت مرزا صاحب نے ہم سے زکوۃ دلوانی شروع کردی،