خطبات محمود (جلد 34)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 132 of 402

خطبات محمود (جلد 34) — Page 132

خطبات محمود 132 $1953 لیکن ایک دہر یہ بھی جو کسی مذہب کا قائل نہیں ہوتا سچ بولنا ظلم نہ کرنا ، رحم اور انصاف سے کام لینا، غرباء سے ہمدردی کرنا اور قربانی اور ایثار کرنا ضروری سمجھتا ہے۔ہم ایک جاپانی سے یہ امید نہیں رکھتے کہ وہ وفات مسیح کے عقیدہ کو سمجھے۔لیکن ایک جاپانی، چینی، افریقی اور مصری اس حقیقت کو ضرور سمجھتا ہے ہے کہ دنیا میں امن قائم ہونا چاہیے، انصاف کرنا چاہیے ، عدل سے کام لینا چاہیے۔تم ایک دہریہ کو کہو کہ تم نماز پڑھو تو وہ تمہاری شکل دیکھ کر خیال کرے گا کہ تم پاگل ہو گئے ہو۔لیکن اگر تم اُسے کہو کہ سچ بولو تو با وجود اس کے کہ وہ کسی مذہب کا بھی قائل نہیں وہ اس بات کو وزن دے گا۔وہ تمہیں یا تو یہ کہے گا کہ میں سچ بولتا ہوں یا کہے گا میں کمزور ہوں۔میں معافی مانگتا ہوں آئندہ ہمیشہ سچ بولوں گا۔وہ یہ نہیں کہے گا کہ یہ بات میری سمجھ میں نہیں آئی۔تم ایک ہند و یا ایک سکھ کو یہ ہوکہ تم ظلم ہ کرو تو وہ یاتو یہ کہے گا کہ میں ظلم نہیں کرتا یا کہے گا کہ بے شک مجھ سے غلطی ہوگئی ہے میں آئندہ ایسی غلطی نہیں کروں گا۔لیکن اگر تم اُسے یہ کہو کہ تم قرآن کریم پڑھا کرو تو وہ ہنس پڑے گا اور کہے گا کہ کیا میں مسلمان ہوں؟ اگر تم ایک دہریہ کو کہو کہ تم می ہستی باری تعالیٰ پر ایمان لاؤ تو وہ ہنس پڑے گا۔لیکن اگر اُسے یہ کہو کہ تم کمزور پر ظلم نہ کرو تو باوجود اس کے کے کہ کمزور پر ظلم نہ کرنا خدا تعالیٰ کی ہستی پر ایمان لانے کے مقابلہ میں نہایت چھوٹی سی چیز ہے پھر بھی ایک دہر یہ اس کا انکار نہیں کر سکتا۔وہ اس بات پر ہنس نہیں سکتا۔وہ یہ کہے گا کہ آپ کو غلط فہمی ہو گئی ہے میں کمزوروں پر ظلم نہیں کرتا۔یا یہ کہے گا مجھ سے غلطی ہو گئی ہے آئندہ ایسا نہیں کروں گا۔یا یہ کہے گا کہ تم کون ہوتے ہو میرے معاملات میں دخل دینے والے لیکن یہ نہیں کہے گا کہ یہ بات کوئی وزن نہیں ہے رکھتی۔بہر حال وہ تمہاری اس بات کے تین جواب ہی دے گا۔یا یہ کہ میں ظلم نہیں کرتا آپ کو غلط نہی ہوگئی ہے۔یا یہ کہ میں نے اس دفعہ غلطی کی ہے آئندہ غلطی نہیں کروں گا۔یا یہ کہ آپ کون ہوتے ہیں میرے معاملات میں دخل دینے والے۔لیکن اس کے مقابلے میں اگر ہم اُسے یہ کہیں کہ خدا تعالیٰ پر ایمان لاؤ رسول پر ایمان لاؤ ، قرآن کریم پر ایمان لاؤ ، تو وہ کہے گا اس میں کیا رکھا ہے؟ پس تم دنیا کے سامنے یہ بات پیش نہیں کر سکتے کہ ہم خدا تعالیٰ کے وجود پر ایمان رکھتے ہیں، اس کے رسول پر ایمان رکھتے ہیں ، قرآن کریم پر ایمان رکھتے ہیں۔ہاں ہم یہ بات پیش کر سکتے ہیں کہ ہم راستباز ہیں، سچے ہیں، شریعت پر عمل کرنے والے ہیں۔ہم فریب نہیں کرتے ، دھوکا نہیں دیتے ، دوسرے کا مال نہیں کھاتے ، کینہ نہیں رکھتے ، غرباء سے ہمدردی کرتے ہیں، قربانی اور ایثار کا مادہ ہم