خطبات محمود (جلد 34)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 119 of 402

خطبات محمود (جلد 34) — Page 119

$1953 119 خطبات محمود ہے جسم موت قبول کر لیتا ہے۔سوائے اس کے کہ ڈاکٹر معدہ میں سوراخ کر کے غذا داخل کر دے یا ٹیکے کے ذریعہ غذا جسم کے اندر پہنچا دے۔یا نمک کا پانی جسم میں داخل کر دے۔اس سے عارضی زندگی تو مل سکتی ہے ہے مستقل زندگی نہیں مل سکتی۔لیکن روحانی لحاظ سے یہاں قائم مقام مقرر ہے۔مثلاً اگر وہ کسی طرح بھی نماز ادا نہیں کرسکتا تو وہ سُبْحَانَ اللهِ ، سُبْحَانَ الله ہی کہتا رہے۔پھر ایسا وقت بھی آسکتا ہے کہ انسان سُبْحَانَ اللہ بھی نہ کہہ سکے۔مثلاً وہ بیہوش ہو جائے اور سُبحَانَ الله یا دوسرے کلمات بھی نہ دہرا سکے تو شریعت کہتی ہے کہ اگر تم سُبحَانَ اللہ بھی نہیں کہہ سکتے تو اگر تمہارا ارادہ یہ تھا کہ تم ساری عمر نماز پڑھو گے تو تمہاری بیہوشی ہی نماز کی قائم مقام ہو جائے گی اور بعد میں اگر افاقہ ہو جائے تو تمام نماز ظاہراً بھی ادا کر سکو گے۔یہی حال روزے کا ہے۔سارے لوگ روزے نہیں رکھ سکتے۔لیکن روزہ روحانی زندگی کے لیے ضروری ہے۔قرآن کریم خود کہتا ہے کہ بیمار روزہ نہ رکھے 2ے۔بلکہ جنہوں نے قرآن کریم اور احادیث پر غور کیا ہے انہوں نے فتویٰ دیا ہے کہ جو شخص باوجود بیمار ہونے کے فرضی روزہ رکھے گا وہ گنہ گار ہوگا۔پھر سفر میں بھی روزہ رکھنا جائز نہیں 3۔فرضی روزہ سفر میں نہیں رکھا جاسکتا۔ہاں نفلی روزے رکھے جاسکتے ہیں۔اگر کوئی سفر میں روزہ رکھے گا تو خدا تعالیٰ کے نزدیک وہ فرضی روزہ نہیں ہو گا نفلی رو ہوگا۔لیکن بیماری میں کوئی روزہ نہیں۔بیماری میں نہ فرضی روزہ رکھا جاسکتا ہے اور نہ نفلی روزہ۔سفر میں تو اگر کوئی روزہ رکھے گا تو خدا تعالیٰ کے نزدیک وہ روز فضلی شمار ہوگا۔لیکن اگر کوئی بیماری میں روزہ رکھے گا تو وہ خدا تعالیٰ کے نزدیک نہ نفلی روزہ شمار ہوگا اور نہ فرضی روزہ۔خدا تعالیٰ کے نزدیک وہ کچھ بھی نہیں ہوگا۔لیکن روح کے لیے غذا کی بہر حال ضرورت ہے۔اس کا علاج کیا ہے؟ رسول کریم ﷺ نے فرمایا ہے کہ روزے کے دو حصے ہیں۔ایک حصہ ظاہری غذا کا ترک کرنا ہے اور ایک حصہ بعض روحانی افعال کے ہیں 4 مثلاً بے ایمانی نہ کرنا، بددیانتی نہ کرنا، جھوٹ نہ بولنا، فریب نہ کرنا، جھگڑا نہ کرنا ، حرا مکاریوں سے بچنا۔اگر انسان اس حصہ کو پورا نہیں کرتا تو خدا تعالیٰ کے نزدیک اُس کا روزہ روزہ نہیں۔خدا تعالیٰ کے نزدیک وہ محض بھوکا مرتا ہے۔گویا روزے کے دو حصے ہیں۔ایک روحانی اور ایک جسمانی۔جو شخص جسمانی روزہ نہیں رکھ سکتا اور وہ روحانی روزہ رکھتا ہے تو اُس کا روحانی روزہ جسمانی روزہ کی کمی کو پورا کر دے گا۔لیکن ظاہری غذا میں یہ بات نہیں۔ظاہری غذا نہ بھی ملے تو کوئی حرج نہیں۔انسان مرے گا روزه