خطبات محمود (جلد 34)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 120 of 402

خطبات محمود (جلد 34) — Page 120

$1953 120 خطبات محمود تو اُسے نئی زندگی مل جائے گی۔لیکن روحانی لحاظ سے اگر غذا نہیں ملتی تو اس کا قائم مقام ملنا ضروری ہے۔کیونکہ اس کے بغیر گزارہ نہیں ہوسکتا اس لیے خدا تعالیٰ نے ہر روحانی غذا کا قائم مقام رکھا ہے۔چنانچہ روزہ کا بھی قائم مقام موجود ہے۔لیکن کتنا بد قسمت ہے وہ شخص جو روزہ سے محروم رہتا ہے۔حالانکہ یہ سب سے پہلی چیز ہے جو انسان کے اخلاق اور اس کے ایمان کی کیفیت کا اظہار کرتی ہے۔مجھے نہایت افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ہماری جماعت نے بھی اس طرف پوری توجہ نہیں دی۔جب ربوہ کی بنیاد رکھی گئی تو اس بات کا اعلان کیا گیا تھا کہ یہاں صرف مخلصین آباد کئے جائیں گے۔لیکن آہستہ آہستہ جب آبادی بڑھی تو ہر قسم کے لوگ یہاں آنے شروع ہو گئے۔اور اب تو یہ حالت ہے مجھے ایک شخص نے خط لکھا ہے کہ آپ تو کہتے تھے کہ یہاں مخلص آباد کئے جائیں گے لیکن مجھے تو یہ نظر آرہا ہے کہ ربوہ میں قادیان سے بھی زیادہ بے ایمان لوگ جمع ہو گئے ہیں۔کئی دکاندار دھوکا باز ہیں، فریبی ہیں، وہ ایک روپیہ کی چیز پانچ روپیہ کو بیچتے ہیں اور پھر چندے بھی نہیں دیتے۔دکانداروں کی فہرست میں سے جو 60, 70 کی ہے 46 دکاندار نادہند ہیں۔13 شرح کے مطابق چندہ نہیں دیتے۔صرف تین چار دکاندار ایسے ہیں جو منہ سے کہتے ہیں کہ ہم شرح کے مطابق چندہ دیتے ہی ہیں۔ممکن ہے یہ تین چار دکاندار بھی اپنے دعوئی میں جھوٹے ہوں۔اب یہ کونسا ایمان ہے؟ ایک شخص جو یہاں سے مدد حاصل نہیں کرتا وہ باہر کا آدمی ہے اور اُس سے غیر لوگ ہی سود اخریدتے ہیں وہ تو ایماندار ہے لیکن ربوہ کے دکاندار جن کو یہ سہولت حاصل ہے کہ انہیں گاہک تلاش نہیں کرنا پڑتے ، ربوہ کے سارے لوگ انہی سے سودا خریدتے ہیں وہ بے ایمان ہیں۔یہ بے ایمانی آگے کئی قسم کی ہے۔مثلا لبعض دکاندار یہ نیت کر لیتے ہیں کہ ہم ٹیکس ادا نہیں کریں گے چنانچہ وہ نظر بچا کر ادھر ادھر بھاگنے کی کوشش کرتے ہیں۔میں نہیں کہہ سکتا کہ سارے دکاندار روزے رکھتے ہیں یا نہیں۔اور اگر رکھتے ہیں تو کیا وہ بعض عوام والے روزے تو نہیں رکھتے کہ باہر نہ کھایا ت اور اندر کھالیا؟ لیکن اگر وہ روزہ رکھتے ہیں تو اس کا کیا فائدہ؟ روزہ تو دو چیزوں کے مرکب کا نام تھا لیکن تم نے جو چیز چھوڑی جا سکتی تھی۔اُسے لے لیا اور جو چیز چھوڑی نہیں جاسکتی تھی اُسے چھوڑ دیا۔روزے کا ایک حصہ تھا روٹی نہ کھانا۔یہ حصہ بیماری اور سفر میں چھوڑا جاسکتا ہے۔لیکن ایک حصہ روزہ کا ہے رزق حلال کھانا، گند نہ اچھالنا، جھوٹ نہ بولنا، دھوکا نہ دینا، فریب نہ کرنا۔روزہ کا یہ حصہ کسی حالت میں