خطبات محمود (جلد 34) — Page 103
$1953 103 خطبات محمود ملازمت کا معیار قابلیت ہوتا ہے۔اس لئے وہ لوگ اپنے اندر قابلیت پیدا کرتے ہیں۔لیکن ہمارے ہاں ملازمت کا معیار تعلقات کا ہوتا ہے اس لیے ہر احمق اور ہر قابل ملازم اپنی نوکری کو قائم رکھنے کے لیے سفارش کا محتاج ہوتا ہے۔جو احمق ہے وہ تو حماقت کرے گا ہی لیکن ایک قابل شخص بھی جب سمجھتا ہے ہے کہ اس کی ملازمت سفارش کے بغیر قائم نہیں رہ سکتی تو وہ سفارش لانے کے لیے ادھر ادھر دوڑتا ہے۔اس طرح دونوں طرف سے بے ایمانی ہوتی ہے۔غرض ہم نے اپنی غلطیوں کی وجہ سے اپنا ماحول گندا بنائی لیا ہے اور ترقی سے بہت دور جا پڑے ہیں۔امریکہ میں ایسے لوگ پائے جاتے ہیں جن کی دو دو پانچ پانچ یا دس دس لاکھ ڈالر ماہوار آمد ہے۔ان کے بعض اخباروں کی آمد صوبہ پنجاب کی آمد کے قریب ہے۔پچھلے دنوں لاہور میں ایک اخبار نویس آیا۔ہمارے اخبار نویس تو ایک ایک سو روپیہ کی مدد کے لیے ادھر اُدھر ہاتھ پاؤں مارتے رہتے ہیں۔لیکن اُس شخص نے بتایا کہ میرے اخبار کے سالانہ اخراجات 16 کروڑ روپیہ ہیں۔یعنی گورنمنٹ پنجاب کے بجٹ سے کچھ ہی کم۔صوبہ سرحد کی آمد پانچ کروڑ روپیہ ہے۔اس لیے اس کی آمد سے تین گنا زیادہ اور صوبہ سندھ سے دو گنا۔اس سے اندازہ لگا لو کہ جس اخبار کی آمد بعض پاکستانی کی صوبوں سے بھی زیادہ ہو وہ کس شان کا ہوگا۔ان ممالک کے لوگ جب خدا تعالیٰ کی رحمانیت کا اندازہ لگا ئیں گے تو ہیں ہیں ارب، نہیں نہیں کھرب یا ہیں ہیں پدم کا لگائیں گے۔لیکن ہمارا آدمی خدا تعالیٰ کی طاقت کا اندازہ لگائے گا تو میں ہزار یا بیس لاکھ روپیہ تک لگائے گا اور کہے گا اس سے زیادہ کیا ہوگا۔مگر وہ لوگ جن کے پاس اتنی طاقت ہے کہ وہ دنیا کے تمام کونوں پر حملہ کر سکتے ہیں، ان کے پاس لاکھوں لاکھ فوج ہے، ہزاروں ہوائی جہاز ہیں، ایٹم بم ہیں وہ خدا تعالیٰ کا اندازہ لگائیں گے تو اس سے بہت زیادہ لگائیں گے۔ان کے پاس اگر ہزار دو ہزار ایٹم بم ہیں تو وہ کہیں گے خدا تعالیٰ کے پاس دو لاکھ ایٹم بم تو ضرور ہوں گے۔لیکن ہمارا آدمی اندازہ لگائے گا تو کہے گا شاید اُس کی شان آدھے ایٹم بم کے برابر ہو۔اس سے بڑی بات وہ کیا کرے گا۔پس چونکہ انسان اپنی حالت کے مطابق خدا تعالیٰ کا اندازہ کی لگاتا ہے اس لیے خدا تعالیٰ نے قرآن کریم میں رحمان اور رحیم کے معنے کر دیئے ہیں تا کہ لوگ ان کی الفاظ کے معنی کرنے میں غلطی نہ کریں۔اور اپنی گری ہوئی حالت اور خراب ماحول کی وجہ سے غلط اندازے نہ لگانے شروع کر دیں کہ خدا تعالیٰ میں اتنی طاقت پائی جاتی ہے۔