خطبات محمود (جلد 34)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 79 of 402

خطبات محمود (جلد 34) — Page 79

$1953 79 خطبات محمود دنیا سے نفرت بھی پیدا ہوگی اور اصل منبع کی طرف توجہ پیدا ہوگی۔یہی وجہ ہے کہ رسول کریم ہے۔فرمایا کہ ہر کام کے شروع کرتے وقت بسم اللہ پڑھ لیا کر و 4۔اس کے معنی یہی ہیں کہ اگر تم بسم الله پڑھو اور اس کے مضمون پر غور کرو تو تمہیں معلوم ہوگا کہ تمہارا غرور اور تکبر سب باطل ہے۔ایک استاد جولڑکوں کو پڑھانے لگتا ہے وہ کس تکبر کے ساتھ اپنائید ہلا رہا ہوتا ہے کہ اگر ذرا بھی کسی نے کی حرکت کی تو اُسے مار مار کر سیدھا کر دے گا۔پھر کس فخر کے ساتھ وہ بورڈ کی طرف بڑھتا ہے اور کس شان کے ساتھ چاک پکڑ کر اُس پر لکھتا ہے اور یہ ظاہر کرتا ہے کہ میں بہت بڑا عالم ہوں۔حالانکہ اگر وہ غور کرے تو اُسے معلوم ہو کہ اُس کی اپنی حیثیت کچھ بھی نہیں۔خدا نے علم کے کچھ ٹکڑے اُس کے حافظہ میں جمع کر دیئے ہیں۔اگر وہ حافظہ نکال لیا جائے تو وہ ایک پاگل کی حیثیت اختیار کرلے اور بجائے ماسٹر بننے کے پاگل خانہ میں بھجوادیا جائے۔لیکن اگر وہ بسم اللہ کہہ کر کمرہ میں داخل ہو تو اسے پتا لگے کہ میں پڑھانے نہیں آیا بلکہ خدا پڑھانے آیا ہے۔یا جب وہ شادی کرے گا اور بسم الله کے مضمون پر غور کرے گا تو اُسے معلوم ہوگا کہ مجھے اگر خاوند بننے کی قابلیت دی گئی ہے تو خدا تعالی کی طرف سے دی گئی ہے اور میری بیوی کو اگر بیوی بنے کی قابلیت دی گئی ہے تو وہ بھی خدا تعالیٰ کی طرف سے ہی دی گئی ہے۔گویا ہر طرف اللہ تعالیٰ کا فعل ہی چل رہا ہے میں تو صرف ایک کھلونا ہوں۔جیسے زمیندار جب اپنی فصل میں جاتا ہے تو کس فخر سے کہتا ہے کہ میری سو ایکڑ زمین ہے، میری ہزا را یکٹر زمین ہے۔لیکن اگر وہ بسم اللہ کہے تو اُسے معلوم ہو کہ ایک انچ زمین بھی میں نے نہیں بنائی۔سو ایکڑ ہے تب بھی خدا نے بنائی ہے اور ہزار ایکڑ ہے تب بھی خدا نے بنائی ہے۔پھر اگر فخر کی چیز پیداوار ہے تو وہ کونسی میں نے بنائی ہے۔جو بیج ڈالا گیا ہے وہ خدا نے بنایا ہے۔جس زمین میں بیج ڈالا گیا ہے وہ خدا نے بنائی ہے۔جو پانی دیا گیا ہے وہ خدا نے بنایا ہے۔پھر بیل جو ہل چلاتے ہیں وہ کب میں نے بنائے ہیں۔ہلوں کی لکڑی اور لوہا میں نے کب بنایا ہے۔غرض اس طرح اگر وہ ایک ایک بات پر غور کرے گا تو اُسے معلوم ہوگا کہ جو کچھ ہے وہ سب خدا تعالیٰ کی طرف سے ہے۔میرا تو صرف غرور ہی غرور ہے۔غرض انسان اگر اپنے ہر کام کے شروع میں سوچ سمجھ کر بسم اللہ پڑھے تو اُسے غیر معمولی علوم حاصل ہو جائیں۔میں نے ایک طریق تمہیں بتادیا ہے۔اگر اسی طریق پر تم سوچنے لگو