خطبات محمود (جلد 34) — Page 78
1953ء 78 خطبات محمود ایک بال بھی نہیں لے سکتا ۔ مگر یہ ساری چیزیں خدا نے امیر اور غریب سب کو یکساں دی ہیں ۔ ہر ایک کو دو دو آنکھیں تقسیم کر دی ہیں ، دو دوکان تقسیم کر دیئے ہیں، ایک ایک ناک تقسیم کر دیا ہے، ایک ایک زبان تقسیم کر دی ہے، بتیس بتیس دانت تقسیم کر دیئے ہیں اور کسی سے نہ پیہ مانگا ہے نہ خدمت لی ہے۔ بلکہ الٹا لوگ خدا تعالیٰ کو گالیاں دیتے ہیں ۔ پس حقیقی رحمانیت خدا تعالیٰ میں ہی پائی جاتی ہے۔ اور یہی سبق بِسمِ اللہ میں دیا گیا ہے۔ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ میں بتایا گیا ہے کہ جب انسان کوئی کام شروع کرے تو سوچ لے کہ کیا مجھے اس کام کی توفیق تھی ؟ اگر خدا مجھے اس کام کی توفیق نہ دیتا تو کیا میں کر سکتا ؟ مگر وہ سوچے گا تو اس کی سمجھ میں آجائے گا کہ جو کچھ ہے اللہ تعالیٰ کی رحمانیت کی وجہ سے ہی ہے ۔ امیر آدمی روٹی کھاتا ہے تو کس شان سے اُس کا دستر خوان بچھایا جاتا ہے۔ کس شان سے نوکر آتے اور کس سلیقہ کے ساتھ کھانے چنتے ہیں۔ اور پھر وہ کس تکبر کے ساتھ دستر خوان پر بیٹھتا اور لقمہ اپنے منہ میں ڈالتا ہے۔ لیکن وہ سوچے کہ اگر خدا رحمن نہ ہوتا تو کیا وہ اس شان کا اظہار کر سکتا تھا ؟ اگر خدا رحمن نہ ہوتا تو جس ہاتھ کو اُس نے کھانے کے لیے بڑھایا ہے وہ ہاتھ ہی نہ ہوتا ، جس منہ میں اُس نے لقمہ ڈالا ہے وہ منہ ہی نہ ہوتا ، جن دانتوں سے اُس نے لقمہ تو ڑا ہے وہ دانت ہی نہ ہوتے ، جس معدہ میں اُس نے غذا ڈالی ہے وہ معدہ ہی نہ ہوتا، جو روٹی اُس نے کھائی ہے وہ روٹی ہی نہ ہوتی جو چاول اُس نے کھائے ہیں وہ چاول ہی نہ ہوتے، جو بوٹی اُس نے کھائی ہے وہ بوٹی ہی نہ ہوتی ۔ یہ ساری چیزیں رحمانیت کے ساتھ ہی تعلق رکھتی ہیں ۔ اسی طرح اگر خدا تعالیٰ رحمان نہ ہوتا تو وہ بکرے کہاں سے آتے جن کا گوشت انسان کھاتا ہے۔ بے شک بکروں کا پالنا بھی ایک بڑا کام ہے مگر سوال یہ ہے کہ بکرا آیا کہاں سے؟ چاول کا بونا اور چیز ہے۔ پر چاول آیا کہاں سے؟ گندم کی کاشت بھی محنت چاہتی ہے۔ لیکن کجا گندم کی کاشت اور کجا گندم کا دانہ مہیا کرنا جس سے ساری دنیا فائدہ اٹھا رہی ہے ۔ پر بسم اللہ میں خدا تعالیٰ نے ہم کو یہ سبق دیا ہے کہ ہر کام کے کرتے وقت یہ سوچ لیا کرو کہ ہم نے کیا کیا ہے اور تم نے کیا کیا ہے ۔ جب اس طرح تم غور کرو گے تو تمہیں ہماری رحمانیت کا پتا لگے گا اور تمہارے دل میں ہماری محبت بھی ترقی کرے گی ۔ ہمارا شوق بھی بڑھے گا ، گی۔ ،