خطبات محمود (جلد 34)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 51 of 402

خطبات محمود (جلد 34) — Page 51

1953ء 51 خطبات محمود باہر سورہا تھا۔ اسے پتا لگ گیا کہ دکان کے اندر چور گھس گیا ہے۔ اس نے باہر سے زنجیر لگا لی ۔ چور نے سمجھا کہ بنئے بے وقوف ہوتے ہیں میں اگر اسے دھوکا دوں تو یہ مجھے چھوڑ دے گا ۔ دکان کے اندر کھانے پینے کی چیزیں ہیں۔ اگر میں یہ ظاہر کروں کہ میں بلی ہوں تو بنیا دروازہ کھول دے گا اور میں باہر نکل جاؤں گا ۔ چنانچہ اُس نے دروازہ کے ساتھ پنجہ مار کر میاؤں میاؤں کی آواز نکالنا شروع کر دی۔ شاید اُسے خیال ہو کہ وہ بلی جیسی آواز اچھی طرح نکال سکتا ہے ۔ مگر بنیا ہو شیار تھا اس نے میاؤں میاؤں کی آواز سنی تو کہا کوئی بات نہیں صبح ہو گی تو میں پہنچوں کو بلاؤں گا ۔ اگر پینچ کہیں گے کہ یہ بلی ہے تو میں بھی مان لوں گا کہ بلی ہے ۔ اسی طرح یہاں تین چیزیں جمع ہیں۔ ان کو دیکھ کر اگر پانچ عقل مند اور شریف آدمی یہ کہہ دیں کہ اگر چہ کہا تو یہی گیا تھا کہ اگر احمدیوں کو اقلیت قرار نہ دیا گیا تو یہاں وہی کچھ ہوگا جو مشرقی پنجاب میں مسلمانوں اور ہندوؤں میں ہوا تھا ۔ ( گومشرقی پنجاب میں ہوا تو یہی تھا کہ مسلمانوں کو قتل کیا گیا اُنکے مکان ٹوٹ لئے گئے ، اُن کی جائیدادوں کو جلایا گیا، اُن کی عورتوں کی بے حرمتی کی گئی ) اور اس کے بعد احمدیوں کے گھروں میں رقعے بھی پھینکے جانے شروع ہو گئے اور اس کے بعد غنڈہ گردی کے خلاف تقریریں بھی شروع ہو گئی ہیں۔ لیکن ان سب کا مطلب یہی ہے کہ یہاں بالکل امن رہے گا، فساد نہیں ہوگا تو ہم بھی پہنچوں کی بات مان لیں گے۔ لیکن اگر ان باتوں کو دیکھ کر پانچ عقل مند اور شریف آدمی یہ کہیں کہ ان الفاظ کے ذریعہ مسلمانوں کو شرارت کی تلقین کی گئی ہے انہیں کہا گیا ہے کہ احمدیوں کو مارو، ان کے گھروں کو لوٹو ، ان کی عورتوں کی بے حرمتی کرو تو ہم مجبور ہیں کہ بلی کو بلی اور چور کو چور سمجھیں جو شخص فساد ، دنگا اور لڑائی کی تبلیغ کرتا ہے۔ اُس میں یہ جرات بھی تو ہونی چاہیے کہ وہ اعلان کر ۔ کرے کہ ہم ایسا کریں گے۔ مثلاً غیر احمدی یہ کہتے ہیں کہ جہاد کے یہ معنے ہیں کہ غیر مسلم حکومتوں سے بلا وجہ لڑ پڑو ۔ اور وہ اپنا یہ عقیدہ کھلے بندوں بیان کرتے ہیں ۔ مودودی صاحب نے تو خوب زور سے اس پر مضمون لکھے ہیں۔ ایسی حالت میں کوئی شخص انہیں یہ نہیں کہہ سکتا کہ وہ دھوکا کر رہے ہیں۔ لیکن جب وہ ایک طرف ایسی باتیں کرتے ہیں جن میں فساد کی تلقین کی گئی ہے اور دوسری طرف ان پر پردہ ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں تو کہنا پڑتا ہے کہ وہ لوگوں کو دھوکا دے رہے ہیں ۔ ہم اقلیت ہیں یا نہیں ۔ لیکن پاکستان میں اور اقلیتیں بھی تو ہیں۔ پاکستان میں عیسائی بستے ہیں، ہندو بستے ہیں ، بُدھ بستے ہیں۔ ان