خطبات محمود (جلد 34) — Page 52
$1953 59 52 خطبات محمود کے علاوہ اور تو میں بھی بہتی ہیں۔تم جنہیں چا ہوا قلیت قرار دے لو۔لیکن انہیں یہ معلوم بھی تو ہونا چاہیئے کہ ان سے کیا سلوک ہوگا۔کیا انہیں مارا جائے گا ؟ کوٹا جائے گا؟ اور ان کی عورتوں کی بے حرمتی کی جائے گی یا انہیں امن سے رہنے دیا جائے گا؟ یہ تو اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے کہ وہ مارے جائیں یا نہ مارے جائیں۔لیکن جب تم ایسا کرو گے تو دنیا سے کس سلوک کی امید کرو گے دنیا اس اعلان کے بعد خود فیصلہ کرلے گی کہ ایسے عقیدے رکھنے والوں کے خلاف کیا سلوک کیا جانا چاہیئے۔واقعہ صرف اتنا ہے کہ احراریوں کے ایک لیڈر نے تقریر کی ہے۔اخبارات میں چھپا ہے کہ اُس نے کہا کہ اگر حکومت نے ہمارے مطالبات کو پورا نہ کیا تو یہاں وہی حالات پیدا ہو جائیں گے جو ی مشرقی پنجاب میں پیش آئے تھے۔اور یہ ظاہر ہے کہ مشرقی پنجاب میں مسلمانوں کو قتل کیا گیا۔اُن کے گھروں کو لوٹا گیا ، اُن کی جائیدادوں کو جلایا گیا ، اُن کی عورتوں کی بے حرمتی کی گئی۔جب تک یہ دونوں چیزیں موجود ہیں ہم مجبور ہیں کہ ہم ان سے یہ نتیجہ نکالیں کہ احمدیوں کو مارا جائے گا ، ان کو لوٹا ہے جائے گا اور ان کی عورتوں کی بے حرمتی کی جائے گی۔ورنہ تم ان الفاظ کا انکار کر دو۔یا تو تم یہ کہو کہ ہم نے ایسا نہیں کہا۔اور یا یہ کہو کہ مشرقی پنجاب میں ایسا نہیں ہوا۔تو پھر ہم بھی اپنا نظریہ بدل لیں گے اور سمجھ لیں گے کہ ہم سے غلطی ہوئی۔ہم نے سنا تھا کہ مشرقی پنجاب میں مسلمانوں پر ظلم ہوا تھا۔لیکن اب پتا لگا ہے کہ وہاں مسلمانوں کی عزت کی گئی تھی، اُن سے پیار کیا گیا تھا، اُن کا احترام کیا گیا تھا۔اب مسلمان جو اکثریت میں ہیں وہی اعزاز اور احترام احمدیوں کا کرنا چاہتے ہیں۔لیکن اگر ایسا نہیں تو جو نتیجہ میں نے نکالا وہ درست ہی نہ تھا بلکہ جو گند اُس تقریر میں تھا اُسے پوری طرح اُس خطبہ میں ہے بے نقاب نہیں کیا گیا تھا۔الفضل 22 فروری 1953ء) :1 وَإِذَا رَأَيْتَ الَّذِيْنَ يَخُوضُونَ فِي ابْتِنَا فَاعْرِضْ عَنْهُمْ حَتَّى يَخُوضُوا فِي حَدِيثٍ غَيْرِهِ وَإِمَّا يُنْسِيَنَّكَ الشَّيْطَنُ فَلَا تَقْعُدْ بَعْدَ الذِّكْرُى مَعَ الْقَوْمِ الظَّلِمِينَ (الانعام: 69)